تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
ابھی 6 فروری کے زخم تازہ ہیں۔ گذشتہ کالم میں ہم نے عرض کیا تھا کہ متشدد ملّا اور کمپرومائزڈ ملّا حقیقت میں ایک ہی منصوبے کے دو منظم کردار ہیں۔ آج پھر ان دونوں کرداروں پر مزید کچھ بات کرنی پڑے گی۔ جب تک ہم ان فنکاروں کو نہیں پہچانیں گے، تب تک ہم یہ نہیں سمجھ پائیں گے کہ ہم ایک قوم ہیں یا ہجوم۔؟ یاد رکھئے کہ ایک خنجر ہے تو دوسرا نیام، ایک قتل کرتا ہے، تو دوسرا قتل کو چھپاتا ہے۔ یہ ایسے ایکٹر ہیں، جنہیں بظاہر مختلف کردار سونپے گئے ہیں، لیکن ان کا مقصد مختلف نہیں۔ دونوں کا ہدف و مقصد ایک ہی ہے کہ خوف و دہشت کو پھیلانا اور سوال و احتجاج کو روکنا اور دبانا۔ ایک طرف متشدد ملّا نفرت کو نعرہ بنا کر، تکفیر اور تشدد کو عبادت اور قاتل کو ہیرو قرار دیتا ہے۔ وہ مذہب کو ہتھیار اور لوگوں کو ایندھن بناتا ہے۔
دوسری طرف کمپرومائزڈ ملّا اسی تشدد کے بعد منظرِ عام پر آتا ہے۔ وہ قتل کو جرم نہیں بننے دیتا، قاتل کے خلاف احتجاج نہیں ہونے دیتا اور دھڑلے سے شہداء کے خون کو مصلحت، تاویل اور خاموشی کے پردوں میں لپیٹ دیتا ہے۔ وہ قاتلوں کا نام لینے سے واضح طور پر گریز کرتا ہے، قاتلوں کے سرپرستوں اور سہولتکاروں کی خوشامد و چاپلوسی کرتا ہے اور سوال پوچھنے و احتجاج کرنے کو فتنہ و سیاست قرار دیتا ہے۔ صرف یہی نہیں، وہ احتجاج کو “لاشوں پر سیاست” کہہ کر احتجاج کرنے والوں کو بدنام کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ قاتلوں کے بجائے مقتولین کے لیے آواز اٹھانے والوں کو کوسنے میں جُت جاتا ہے۔
آپ کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا سیاق و سباق ڈھونڈیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک طرف کچھ متشدد ملّا کچھ ہی فاصلے پر میدان گرم رکھے ہوئے ہونگے، جبکہ دوسری طرف کمپرومائزڈ ملّا کسی پُرتشدد کارروائی کے بعد سماجی فضا کو قاتلوں کے لیے نرم اور قابلِ قبول بنانے میں مصروف نظر آئیں گے۔ ایک حملہ کرتا ہے، دوسرا اس کی مکروہات کو نارملائز کرتا ہے۔ ایک ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرتا ہے، دوسرا عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ رِٹ پر سوال اٹھانا ہی ریاست دشمنی ہے۔ یوں اس عمل کے نتیجے میں تشدد ایک قابلِ تکرار اور قابلِ ہضم واقعہ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد جنازے پڑھے جاتے ہیں اور لاشیں دفن ہوتی ہیں، لیکن احتجاج نہیں ہوتا۔ اس کے بعد عدل و انصاف کے مطالبے کے بجائے شہداء کے ورثاء کو معاوضے کا مطالبہ زور پکڑ لیتا ہے۔
آپ عقل و منطق کو استعمال کریں۔ تھوڑی دیر غور و فکر کریں۔ سوچیں تو سہی۔ ریاستی سلامتی کے تناظر میں یہ دونوں ایک ہی تلوار کی دو دھاریں ہیں کہ متشدد ملّا لوگوں کو ہلاک کرتا ہے، جبکہ کمپرومائزڈ ملّا اس ظلم کے خلاف بے حسی پھیلاتا ہے۔ ایک جسم کو نشانہ بناتا ہے، دوسرا شعور کو۔ ایک خوف پیدا کرتا ہے، دوسرا خوف کو معمول بنا دیتا ہے۔ جب تک متشدد ملّا کو صرف قاتل اور کمپرومائزڈ ملّا کو اس کا سہولت کار نہیں سمجھا جائے گا، تب تک اس ملک میں کچھ اچھا نہیں ہوگا۔ وہی پرانا اسکرپٹ، وہی پرانے کردار اور ہر بار نئی لاشیں۔ اس دائرے کو توڑنے کے لیے صرف آپریشن نہیں، دماغوں، دلوں اور نیتوں کی صفائی درکار ہے، ورنہ پرانا زہر ہر بار نئی خوراک میں ڈال کر دیا جاتا رہے گا۔
یہ واضح سی بات ہے کہ جب متشدد اور کمپرومائزڈ ملّا ایک دوسرے کے لیے منظم طور پر کام کرتے ہیں تو ریاست سکیورٹی محاذ کے ساتھ ساتھ اخلاق کے میدان میں بھی ہار جاتی ہے۔ جب دھماکوں کے بعد خاموشی کو حُب الوطنی اور احتجاج نہ کرنے کو ثوابِ عظیم کہا جاتا ہے تو اس پر دہشت گرد ہنستے ہیں۔ انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ ریاست کتنی کمزور ہوچکی ہے کہ وہ اپنے مظلوم شہریوں کا سامنا کرنے سے کترا رہی ہے۔ اس تناظر میں متشدد اور کمپرومائزڈ ملاؤں کا سب سے خطرناک فریب یہ ہے کہ وہ ہر ناکامی، ہر سانحے اور ہر سوال کا بوجھ خود قوم پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “یہ قوم اچھی نہیں، یہ قوم نہیں، ہجوم ہے، یہ قوم بے شعور ہے، اسے سمجھ ہی نہیں۔” بظاہر یہ باتیں درست معلوم ہوتی ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک منظم چال ہے، جس کا مقصد اپنے کرتوت چھپانے کے لیے عوام کی قومی حیثیت کو مجروح کرنا ہے۔
متشدد ملّا اس بیانیے کو اس لیے استعمال کرتا ہے کہ تشدد کو “اصلاح” کہہ سکے۔ جب قوم کو بے شعور ثابت کر دیا جائے تو پھر اس پر لاٹھی، گولی اور دھماکہ بھی “ضرورت” بن جاتا ہے۔ یوں قاتل خود کو منجی اور مقتول کو مجرم ثابت کرتا ہے۔ یہ وہ منطق ہے، جہاں ظلم، علاج اور خون اُس کی دوا قرار پاتا ہے۔ کمپرومائزڈ ملّا اسی بیانیے کو ایک اور سطح پر استعمال کرتا ہے۔ وہ قوم کو نااہل اور ناپختہ قرار دے کر کہتا ہے کہ اسے احتجاج کا حق نہیں، چونکہ اس میں سوال اٹھانے کی صلاحیت نہیں اور اسے اختلاف کرنے کی تربیت نہیں دی گئی۔ نتیجتاً خاموشی کو دانش اور اطاعت کو استحکام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں عوام کو سیاسی اور اخلاقی طور پر گرا دیا جاتا ہے۔ اس سے عوام بااختیار شہری کے درجے سے محروم ہو جاتے ہیں۔
اس تناظر میں جب عوام کو “نہ سمجھنے والا ہجوم”، “جذباتی مجمع” یا “نااہل قوم” قرار دیا جاتا ہے، تو دراصل انہیں شعوری فریق ماننے سے انکار کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ان سے احتجاج کرنے اور ریاستی یا مذہبی اختیار سے جواب طلب کرنے کی اہلیت چھین لی جاتی ہے۔ یوں عوام کو مشاورت میں شریک کرنے کے بجائے چند کرپٹ خواص انہیں اپنا مطیع، تابع اور فرمانبردار بنا لیتے ہیں۔ یہ سب زبان اور قلم کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ چند جملے، کچھ لطیفے، چند خطابات اور چند فتوے عوام کو اس مقام سے گرا دیتے ہیں، جہاں وہ احتساب کرسکتے ہوں۔ نتیجتاً اختیار رکھنے والا فریق خود کو واحد عقلِ کل اور واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ عوام کو خاموش رہنے کے قابل یا جانوروں کی طرح نااہل سمجھا جاتا ہے۔
اس عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ حقوق کی نفی کو معمول بنا دیتا ہے۔ جب عوام کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ وہ بے شعور ہیں تو ان کے سوال بدتمیزی، ان کا احتجاج فتنہ اور کہیں پر اُن کا جمع ہونا خطرہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، عوام کو بے شعور اور ایک قوم کے بجائے ہجوم کہنا دراصل ان کے شہری، اخلاقی اور سیاسی حقوق کی بیخ کنی کا حربہ ہے۔ یہ دعویٰ کہ “قوم بے شعور ہے” دراصل ایک سیلف سروسنگ لیبل ہے۔ اگر قوم کو بے شعور مشہور کر دیا جائے، تو پھر قوم کچھ پوچھنے کا حق ہی نہیں رکھتی، خطیب جواب دہ نہیں رہتا، قاتل ذمہ دار نہیں رہتا اور سہولت کار بے قصور بن جاتا ہے۔ یہی وہ فریب ہے، جو احتساب کو ناممکن اور اصلاح کو غیر ضروری بنا دیتا ہے۔
سیلف سروسنگ لیبل سے مراد وہ نام، الزام یا شناخت ہے، جو کوئی طاقتور فریق دوسروں پر اس نیت سے چسپاں کرتا ہے کہ اس کا فائدہ خود اٹھا سکے اور جواب دہی سے بچ نکلے۔ یہ لیبل کسی سماجی حقیقت کی وضاحت نہیں کرتا بلکہ ایک منظم بیانیاتی حربہ ہوتا ہے، جس کا مقصد اپنی پوزیشن کو محفوظ اور مضبوط رکھنا ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں جب متشدد یا کمپرومائزڈ ملّا یہ کہتا ہے کہ “قوم اچھی نہیں”، “یہ قوم نہیں ہجوم ہے” یا “یہ لوگ بے شعور ہیں”، تو یہ الفاظ کسی تجزیئے کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ایک سیلف سروسنگ لیبل ہوتے ہیں۔ اس لیبل کے ذریعے خرابی کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، تاکہ اپنی ناکامی، اپنی خاموشی یا اپنی چالوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
یہ لیبل سب سے پہلے ذمہ داری کو منتقل کرتا ہے۔ جب قوم ہی کو نااہل ثابت کر دیا جائے، تو پھر نہ خطیب جواب دہ رہتا ہے، نہ قاتل، نہ سہولت کار۔ ہر خرابی عوام کی قرار پاتی ہے اور ہر اختیار خود ساختہ نجات دہندگان کے ہاتھ میں محفوظ ہو جاتا ہے۔دوسرے مرحلے میں یہی لیبل جبر کو جواز فراہم کرتا ہے۔ اگر قوم “بے شعور” ہے، تو اس پر سختی، خاموشی اور کنٹرول ظلم نہیں بلکہ ضرورت بنا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ اختلاف فتنہ اور سوال بدتمیزی قرار پاتا ہے، جبکہ ظالموں کی اطاعت کو دانش اور استحکام کا نام دے دیا جاتا ہے۔ آخرکار یہ بیانیہ احتساب کے پورے تصور کو باطل کر دیتا ہے۔ اگر عوام سمجھ ہی نہیں سکتے تو پھر جواب دینے، وضاحت کرنے اور اصلاح کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یوں طاقتور خواص خود کو اخلاقی اور عملی طور پر احتساب سے بالاتر ثابت کرنے لگتے ہیں۔
سادہ لفظوں میں، سیلف سروسنگ لیبل وہ آئینہ ہے، جو دوسروں کو نالائق اور خود کو معصوم دکھانے کے لیے گلی گلی میں گھمایا پھرایا جاتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قوم ہجوم نہیں ہے، اسے جان بوجھ کر ہجوم کہا جاتا ہے۔ نیز اسے مسلسل دہشت گردی، مسلسل خاموشی اور مسلسل تضحیک کے ذریعے ہجوم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب سوال دبایا جائے، معلومات روکی جائیں اور اختلاف کو گناہ بنا دیا جائے تو شعور نہیں مرتا، شعور کو منجمد کر دیا جاتا ہے۔ پھر اسی منجمد شعور کو دلیل بنا کر مزید جبر کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔ عوام کے بے شعور ہونے کا بیانیہ کرپٹ خواص اور عوام کے درمیان آخری پل کو بھی گرا دیتا ہے۔
جب عوام کو نااہل ثابت کر دیا جائے تو خواص خود کو جواب دہ سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں اور جب خواص جواب دہ نہ رہیں تو کرپشن کی اصلاح ہونے کے بجائے اُسے ایک نظام کی شکل مل جاتی ہے۔ عوام کو بے شعور ثابت کرکے متشدد اور کمپرومائزڈ ملّا ہر دھماکے کے بعد اپنے اصل مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایک بات سمجھ لیجئے کہ جو قوم کو ہجوم کہتا ہے، وہ دراصل خود کو احتساب سے بالاتر کرنا چاہتا ہے اور جو پاکستان جیسی شہداء پرور قوم کے ملی شعور کا انکار کرتا ہے، وہ درحقیقت مزید ظلم کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قومیں دھماکوں سے کم اور بے حسی سے زیادہ مرتی ہیں۔