مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ ایک بڑا چیلنج سائبر اسپیس میں اصلی مواد کو جعلی اور من گھڑت مواد سے الگ کرنا ہے، اگر تمیز کرنا ممکن نہ ہوسکا تو معاشرے کو بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم کونسل کے سکریٹری اور نیشنل سائبر سپیس سنٹر کے سربراہ سید محمد امین آغامیری نے مقدس شہر قم کے سفر کے دوران آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کیساتھ وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ ملاقات میں آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے سائبر اسپیس کی نوعیت اور افعال کو موجودہ دور کے اہم اور بااثر مسائل میں شمار کرتے ہوئے اس کی درست شناخت، بہترین انتظام اور اس کے نقصانات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر تاکید کی۔
یہ بتاتے ہوئے کہ سائبر اسپیس فطری طور پر مواد کا ایک آزاد پروڈیوسر نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ سائبر اسپیس میں جو کچھ بھی ہے وہ اسے دیا گیا ہے، اور جو کچھ یہ پیش کرتا ہے وہ ان پٹ ڈیٹا کا عکاس ہے، اس لیے اس بات کا جائزہ لیا جانا چاہیے کہ اس جگہ کے اہم سپلائرز کون ہیں اور وہ کن مقاصد کے لیے اس کا انتظام کرتے ہیں۔ سائبر اسپیس کو حقیقی جگہ سے الگ کرنے کی ضرورت کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے، انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم چیلنج سائبر اسپیس میں تخلیق کردہ جعلی مواد سے اصلی مواد کو الگ کرنا ہے، اگر تفریق کا کوئی امکان نہ رہا تو معاشرے کو بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا، خصوصی میکانزم اور گروہوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس خلا میں حقیقت کی شناخت اور اسے فریب سے الگ کرنے کے لیے سنجیدگی سے سرگرم ہوں۔
آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے عوام بالخصوص نوجوانوں کے لیے بیداری کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو خبردار کرنا چاہیے کہ سائبر اسپیس میں شائع ہونے والی بہت سی تصاویر، خبریں، تقریریں اور مناظر درست نہیں ہیں اور شک کی صورت میں خصوصی مراکز اور افراد سے مدد لینا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ موجودہ حالات میں سائبر اسپیس کے بعض فوائد کے ساتھ ساتھ زیادہ نقصانات بھی ہیں، واضح کیا کہ اس خلا کا منبع بنیادی طور پر غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہے اور اس وجہ سے اس میں فساد اور تحریف کی گنجائش حقائق کی ترسیل سے زیادہ ہے، ہمیں مسلسل کوششوں سے خامیوں کو پورا کرنا چاہیے اور ایک ایسے مرحلے تک پہنچنا چاہیے جہاں ہم سائبر اسپیس کو کنٹرول کر سکیں، اس کی طاقتوں سے فائدہ اٹھا سکیں اور اس کے نقصانات کو روک سکیں۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے ایران کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے سائبر اسپیس کو بعض نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عوامل میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعات مستقبل کے لیے ایک سنگین انتباہ ہوسکتے ہیں تاکہ معاشرہ سائبر اسپیس کے تباہ کن کردار سے زیادہ آگاہ ہوجائے۔ انہوں نے مختلف اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عظیم کام انفرادی کوششوں سے حاصل نہیں ہوسکتے اور اس کے لیے اجتماعی، مربوط اور منظم کام کی ضرورت ہے۔ انٹیلی جنس مراکز، پاسداران انقلاب جیسے اداروں کا تعاون اور اس شعبے میں مدارس کی شرکت ایک امید افزا اور ضروری قدم ہے۔
انہوں نے مدارس کے سائبر اسپیس کے نقصانات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مدرسہ سائبر اسپیس میں غلطیوں اور آلودگی کا شکار ہوتا ہے تو یہ بہت بڑا خطرہ ہوگا، پہلے مدرسے کی حفاظت کرنی ہوگی اور پھر اس کی مدد سے معاشرے کی اصلاح کرنی ہوگی۔
آخر میں آیت اللہ مکارم شیرازی نے معاشرے اور حکام میں امید کے جذبے کو تقویت دینے کی ضرورت پر تاکید کی اور کہا کہ مایوسی اور ناامیدی کو جنم نہیں دینا چاہیے۔
جس طرح ہم نے کوشش کے ذریعے کچھ شعبوں میں ترقی کی ہے، اسی طرح ہم سائبر اسپیس کے انتظام میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں، آپ کے پاس ایک اہم کام ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ کی کوشش، تعاون اور خدا پر توکل اور امام زمانہ علیہ السلام کی نصرت و تائید سے یہ ذمہ داری بخوبی نبھائی جائے گی۔ اس ملاقات کے آخری حصے میں آغا میری نے آیت اللہ مکارم شیرازی کو سائبر اسپیس کے میدان میں ملک کے تازہ ترین رجحانات اور پیشرفت اور سائبر اسپیس کے خطرات سے آگاہ کیا۔