علاقائی جنگ انتباہ اور آماده‌باش حالت رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے دفتر سے شائع ہونے والا اداریہ

اسلام24/7کے مطابق  دفتر مقام معظم رہبری سے نشر ہونے والے اداریہ کے مطابق ایران پر ممکنہ حملہ امریکیوں کے لیے کیا نتائج رکھے گا؟
اور یہ بھی امریکی جان لیں کہ اگر اس مرتبہ کوئی جنگ شروع کریں گے تو یہ جنگ، علاقائی جنگ ہوگی»؛ یہ رہبرِ انقلاب اسلامی کے تازہ ترین بیانات کا آخری جملہ تھا اور ایک لحاظ سے کہا جا سکتا ہے اور کہا جانا چاہیے کہ یہ بیانات کا سب سے اہم جملہ ہے جس نے وسیع اور عالمی توجہ کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
امریکہ نے حالیہ دنوں میں مغربی ایشیا کے خطے اور ایران کے اطراف نئے فوجی ساز و سامان کی ترسیل کے ساتھ ایران کے خلاف دھمکیوں کی ایک نئی اور تازہ لہر شروع کی ہے۔ اس عملی لشکرکشی کے ساتھ ساتھ، امریکہ اور اس کے اطاعت گزار نوکروں کی طرف سے میڈیا اور لفاظی کے میدان میں بھی مسلسل، بہت سنگین اور وسیع کارروائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ امریکہ کی حقیقی حرکات کے مقصد کے بارے میں مختلف سناریو سامنے آئے ہیں جو اپنی جگہ قابلِ توجہ اور قابلِ تحقیق ہیں، لیکن اگر امریکہ نے حماقت کی اور کسی بھی طریقے سے حملہ اور شرانگیزی کی کوشش کی، تو اس خطے میں اپنے لیے جہنم کے دروازے کھول لے گا۔
یورپیوں نے گزشتہ ایک دو سالوں میں اسرائیلی رژیم کی جنایتوں کی وجہ سے ایران کے علاقائی متحدین کی کمزوری اور حتیٰ نابودی کے بارے میں بہت پروپیگنڈہ کیا ہے، لیکن دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کی ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے لیے بھتہ خوری شرائط میں سے ایک اب بھی یہی ہے کہ ایران ان طاقتوں {محاذ مقاومت} کا ساتھ چھوڑ دے۔ اگر واقعاً وہ اتنے کمزور ہو چکے ہیں اور ان میں طاقت اور عملی کارکردگی نہیں رہی، تو پھر ایسی شرط پر اصرار کیوں ہے؟!
ایران کے متحدین اور حامی صرف یہی مقامی گروہ نہیں ہیں؛ خطے کی کثیر تعدادعوام بھی ان گروہوں کے ساتھ ہیں۔ وہ شاید رسمی یا آشکار طور پر ان گروہوں کے رکن نہ ہوں، لیکن ان کا اپنا خاص مقام ہے اور وقتِ ضرورت، اپنی توان کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے۔
رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے امریکہ کو کسی بھی طرح کی جنگ کی شروعات اور حملے کے بارے میں انتباہ کو مقاومت کے مراکز اور خطے کی ملتوں کے لیے بھی آماده‌باش حالت کا اعلان سمجھا جا سکتا ہے؛ وہ لوگ جن کا ایران اور رہبرِ انقلاب اسلامی کے ساتھ معنوی تعلق ہے، جو مادی محاسبات سے بالاتر ہے، اور یہی تعلق دشمن کو حادثے کے وقت حیران اور زمین‌گیر کر دے گا۔
تجاوز کا آغاز ممکن ہے امریکہ کرے، لیکن یہ بات صہیونی رژیم کو ہرگز اَمن میں نہیں رکھے گی۔ مقبوضہ سرزمین صہیونی رژیم ایران کے اہم اور اولین اہداف میں سے ایک ہوں گی اس علاقائی جنگ میں۔ تجربہ، منطق اور محاسبات یہ تصدیق کرتے ہیں کہ ایران پر کسی بھی حملے میں واشنگٹن اور تل‌آویو الگ الگ فیصلہ نہیں کرتے اور نہ الگ الگ عمل کرتے ہیں؛ لہٰذا جواب میں بھی ان دونوں عناصر کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
امریکیوں کے پاس خطے میں وسیع اور ،مختلف مفادات، سرمایہ اور نفوس ہیں۔ یہ سب چیزیں ایران اور اس کے بازوؤں کی جانب سے جوابی حملے کے جائز اہداف ہوں گے۔ ایران نے ۱۲ روزہ جنگ میں اپنی بھرپور و مکمل تمام توانائی اور قوت استعمال نہیں کی تھی، لیکن نئی ممکنہ جنگ میں بہت سی پچھلی مصلحتیں، محاسبات اور سرخ لکیریں ایک طرف رکھ دی جائیں گی اور دشمن ایک بالکل مختلف ایران کے سامنے ہو گا۔
خطے کے اکثر ممالک نے مختلف دلائل کی بنا پر اور باضابطہ طور پر امریکہ کی ممکنہ جنگ جوئی مہم کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے کچھ ممالک امریکہ کے فوجی اڈوں کے میزبان ہیں اور کچھ اس کے اقتصادی سرمائے اور مفادات کے میزبان۔ جمہوری اسلامی ایران اس سے پہلے ان ممالک کو امریکہ کے ساتھ ہر طرح کے تعاون حتیٰ خفیہ تعاون کے بارے میں انتباہ دے چکی ہے، اور بہرحال، امریکہ کے تمام مفادات ایران کے اہداف کے بینک میں موجود ہوں گے۔
امریکہ کی حکومت اور خود ٹرمپ کو جان لینا چاہیے کہ ایران نہ جنگ چاہتا ہے اور نہ جنگ کا آغاز کرنے والا ہے، لیکن لڑنے اور اپنے دفاع سے بھی نہیں ڈرتا، اور پوری قوت سے حملہ آوروں کے مقابل کھڑا ہوگا اور انہیں ایک ناقابلِ فراموش اور ناقابل تلافی سبق دے گا۔ تکبّر، حماقت، غلط محاسبات اور صہیونی لابیوں کی تحریکات کا مجموعہ امریکہ کے ہاتھ میں ایسا بم تھاما سکتا ہے جس کا انجام ’’علاقائی جنگ‘‘ نامی ایک بارودی ذخیرے کے درمیان کھڑا ہونے کے مترادف ہو گا۔

Scroll to Top