آیت اللہ حاج سید مجتبی خامنہای، رہبر و مرجعِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای کے دوسرے فرزند ہیں۔
آپ کی ولادت سن 1969ء (1348 ہجری شمسی) میں مشہد مقدس میں ہوئی۔ ابتدائی حوزوی تعلیم آپ نے مدرسہ آیت اللہ مجتہدی تہران میں حاصل کی۔
دفاعِ مقدس کے زمانے میں آپ مجاہدینِ اسلام کے ساتھ محاذِ جنگ میں بھی شریک رہے۔ جنگ کے اختتام کے بعد سن 1989ء میں تکمیلِ تعلیم کے لئے قم تشریف لے گئے اور 1992ء تک وہیں مقیم رہے۔ اس کے بعد پانچ سال تک تہران میں قیام کرکے اپنی حوزوی تعلیم جاری رکھی۔
سن 1997ء میں آپ نے شہیدہ زہرا حداد عادل سے شادی کی اور اسی سال دوبارہ حوزوی تعلیم کی تکمیل اور معنوی فیوض کے حصول کے لئے قم ہجرت فرمائی۔
انہوں نے ابتدائی حوزوی تعلیم مدرسہ آیتالله مجتهدی تہرانی میں حاصل کی اور دفاع مقدس کے دوران مجاہدین اسلام کے ساتھ محاذ پر جهاد میں شرکت کی۔ ایران_عراق جنگ کے خاتمے کے بعد 1990 میں حوزوی تعلیم کی تکمیل کے لیے قم تشریف لے گئے اور تقریباً 1993 تک قم میں مقیم رہے۔
1993 میں وہ پانچ سال کے لیے تہران واپس آئے اور وہاں اپنی حوزوی تعلیم جاری رکھی۔ 1998 میں انہوں نے شہیدہ زہرا حداد عادل سے نکاح کیا اور اسی سال دوبارہ حوزوی تعلیم کی تکمیل اور علمی مدارج کی تکمیل کے لیے دوبارہ قم کی طرف ہجرت کی۔
حوزوی اعلیٰ تعلیم انہوں نے آیتاللہ احمدی میانہجی، رضا استادی، اوسطی اور دیگر نمایاں اساتذۂ قم سے حاصل کیں۔ انہوں نے فقه اور اصول کے دروس خارج اپنے مرحوم والد آیتالله العظمی سید علی خامنهای کے حضور سے کسب کیا اور اس کے ساتھ ساتھ آیتاللہ العظمی شیخ جواد تبریزی، شیخ حسین وحید خراسانی، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتبی تہرانى، شیخ محمد مؤمن قمی وغیرہ کے محضر سے بھی کسب فیض کیا۔
انہوں نے 17 سال سے زائد عرصے تک مسلسل مختلف علوم کی تدریس بھی کی۔ عربی زبان میں مختلف اساتید کے دروس کے علمی نکات کی تحقیق، اشکال اور تنقید کے ذریعے علمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کی وجہ سے بعض بزرگوں کی خاص توجہ ان کی طرف مبذول ہوئی۔ ذہانت، صلاحیت، محنت اور علمی دقت کے ساتھ انہوں نے حوزوی علوم (خاص طور پر فقہ، اصول اور رجال) میں بے شمار اور مستند نئے مباحث کو پیش کیا۔
اسلامی علوم کے منظم اور منسجم فکری بنیادوں پر ان کی مضبوط گرفت اور مختلف مسائل کے بارے میں جدید علمی نظریات پیش کرتے ہوئے اپنے فکری اصولوں پر کاربند رہنا ان کی نمایاں امتیازات میں شمار ہوتی ہے۔
تدریس کے مواد اور انداز میں جدت (گذشتہ علماء کے نظریات پر عبور، علمی بنیادوں اور مسائل کے نظم پر تنقیدی نظر، منظم اور منطقی بیان، فکری آزادی اور علمی جدت، اخلاق کی رعایت اور بے مثال فروتنی …) کی وجہ سے قم میں ان کا درس خارج آہستہ آہستہ قم کے پر رونق اور معروف دروس خارج میں شمار ہونے لگا اور کرونا سے قبل کہ جب حضوری دروس کا سلسلہ بند نہیں ہوا تھا تو ان کے درس خارج میں تقریباً 400 طلباء شرکت کرتے تھے۔
کرونا کے دوران ان کا درس آنلائن ورچوئل طور پر پیش کیا گیا اور اس کے بعد بھی چونکہ وہ تہران میں مقیم تھے اور قم تک آمدورفت محدود تھی، اس لئے اسی طریقے سے درس کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ تعلیمی سال 2024 کے آغاز میں ان کے درس میں 1300 سے زائد طلباء نے رجسٹریشن کی؛ تاہم پہلے سیشن میں تقریباً 700 طلباء کی شرکت کے باوجود، انہوں نے اچانک اس درس کے معطل کرنے کا اعلان کیا اور طلباء سے معافی مانگی۔ یہ خبر تمام طلباء اور دیگر افراد کے لیے حیران کن تھی اور عام تجزیوں کے مطابق قابل فہم نہیں تھی۔
اس واقعے کے بعد قم کے 1000 طلباء اور اساتذہ نے ایک خط میں رہبر معظم انقلاب شہید سید علی خامنہ ای کی خدمت میں اس درس کے دوبارہ شروع کروانے کی درخواست کی اور قم کے بزرگوں نے بھی زبانی طور پر یہی مطالبہ کیا۔ تاہم، آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے اپنے بعض قدیمی شاگردوں کے ساتھ نجی ملاقات میں درس کی بندش کی وجہ کو ایک روحانی اور معنوی معاملہ قرار دیا جسے بیان نہیں کیا جا سکتا اور اس کے ساتھ یہ بھی زور دیا کہ کرونا کے بعد جب کئی معروف اور قابل اساتذہ کے دروس معطل یا کم رونق ہوگئے ہیں تو ایسے میں ہمارا درس جاری رکھنا مناسب نہیں، اس لیے مزید مطالبہ اور درخواست کرنے سے منع کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب 1000 طلاب کا خط اور بعض اساتذہ کی زبانی پیغام ان کے شہید والد نے دریافت کیا تو انہوں اس معاملے کو ان کے ساتھ زیر بحث لایا اور کہا کہ اگر ضرورت ہو تو وہ درس کو جاری رکھنے کا مشورہ دیں۔ لیکن جب انہیں اپنے بیٹے کے قطعی فیصلے کا علم ہوا تو اس مسئلے کو خود ان کے سپرد کر دیا۔
آیتالله الحاج سیدمجتبی خامنہ ای نے انہی طلباء سے کہا کہ باقی طلباء کو دیگر اساتذہ کی طرف رہنمائی کریں اور علمیت، انقلابی ہونا اور معنویت جیسے معیار کو استاد کی شناخت کے بنیادی شرائط کے طور پر پیش کیں۔ دوستوں کے اصرار اور شہید رہبر معظم انقلاب کی “عروة الوثقى” پر حاشیہ نگاری کی سفارش کے بعد، اس کام کو آئندہ کے لئے موخر کر دیا اور بعد میں اپنی علمی سرگرمیوں کو اس مسئلے اور فقہی و اصولی اسباق کی دوبارہ تحریر پر مرکوز کیا، جو آج تک جاری ہے۔
حوزہ علمیہ قم کی فقہی شناخت کو مضبوط کرنے کی خواہش نے انہیں انقلابی فقہی اداروں اور مراکز (مختلف علمی رجحانات اور مسلکوں کے حامل) کی حمایت کے ساتھ ساتھ بعض علمی مراکز اور فقہی مدارس کے قیام کی طرف راغب کیا۔ علمی مسائل پر توجہ کے ساتھ سماجی مسائل، خصوصاً محرومین کی خدمت پر توجہ نے ان مدارس میں ایک جامع پروگرام کی تشکیل کی، جس کے نتیجے میں آج مومن، انقلابی اور ہمدرد افراد کی ایک بڑی تعداد تیار ہوئے ہیں۔
خود پسندی کی بجائے حوزہ علمیہ اور انقلابی مکتب کی تقویت، امام خمینی اور شہید آیتالله العظمی امام خامنہ ای کے بےمثال فکری منہج کی ترویج سمیت دیگر عوامل نے بہت سے بزرگوں اور اساتذہ کو اس وسیع حلقے اور مجموعے کی تعریف اور حمایت پر مجبور کیا۔
تعلیم، تدریس اور دیگر حوزوی مشاغل کے علاوہ، قم اور مشہد میں بعض مراجع، بزرگوں اور حوزوی اساتذہ کے ساتھ گہرے تعلقات بھی اہم ہیں۔
بعض اہم قومی معاملات کے انتظام میں رہبر شہید کے احکام کی بجا آوری، اس گہرے رابطے کی برکتوں میں سے ایک ہے، آپ رہبر شہید کے قریب ترین ہمدم کے طور پر برسوں تک معاملات اور مسائل کی انجام دہی میں مشیر اور معاون کے طور پر خدمت کرتے رہے۔
آیتالله سیدمجتبی خامنهای کی شخصیت کے اہم پہلوؤں میں سے ایک اخلاقیات اور عرفان کے بزرگ اساتذہ کے ساتھ تعلق ہے، جن میں آیتالله بہاءالدینی، آیت اللہ بہجت، آیت اللہ کشمیری، شیخ جعفر مجتہدی اور بعض دیگر معنوی شخصیات شامل ہیں۔
ان کی معنوی سلوک اور تزکیہ نفس کے بارے میں بہت سے نکات اور غیر بیان شدہ باتیں ہیں اور بزرگوں کی روحانی توثیقات ہیں جو اہل معنی اور باخبر لوگوں کے پاس محفوظ ہیں۔
ایران کے بڑے انتظامی معاملات کے بارے میں ان کا علم اور مختلف ادوار میں ملک کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ قریبی تعلق اور متعدد میٹنگیں ایک قیمتی تجربہ فراہم کرتی ہیں جو مستقبل میں بہت سے اثرات اور برکات کا باعث بن سکتی ہے۔ مختلف علمی شعبوں میں وسیع مطالعہ، ماہرین کے ساتھ مسلسل میٹنگیں اور حکمرانی کے شعبے میں چھوٹے اور بڑے مسائل کے بنیادی حل تک رسائی (بشمول معاشی استحکام اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام کے حل، سستے، تیز، جدید اور بڑے پیمانے پر تعمیر، ایران میں زرعی اور مویشی نظام میں تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور بعض بڑے علمی منصوبوں کی حمایت…) اسلامی ایران کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔
سیدالشہدائے مقاومت سید حسن نصراللہ اور شہید سردار حاج قاسم سلیمانی سمیت فوجی رہنماؤں اور مزاحمتی محاذ کے رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطہ آیتالله سیدمجتبی خامنہ ای کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ یہ وہ تمام مسائل ہیں جن کی وجہ سے امریکہ اور صہیونی حکومت اس عظیم شخصیت سے پرانی دشمنی اور عداوت رکھتی ہیں اور ان کی شخصیت کشی اور قتل کی مسلسل کوششیں کی ہیں، جو امام زمانہ (عج) کی عنایت سے اب تک ناکام رہی ہیں اور خداوند متعال نے اس قیمتی شخصیت کو حق اور کفر اور عالمی استکبار کے کے ساتھ موجودہ جنگ کے دوران ایک ذخیرے کے طور پر محفوظ رکھا ہے۔