حماس نے غیرمسلح ہونے کا مطالبہ مسترد کردیا


حماس کے بیرون ملک سیاسی امور کے سربراہ خالد مشعل نے غزہ میں فلسطینی دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ عوام سے ہتھیار چھین لینا انہیں ختم کرنے کے لیے ایک آسان شکار بنا دے گا۔

اسلام 24/7کی رپورٹ کے مطابق دوحہ میں الجزیرہ فورم کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے حماس کے سینئر رہنما خالد مشعل نے کہا کہ حماس سے اپنے ہتھیار حوالے کرنے پر ہونے والی بحث دراصل فلسطینی مسلح مزاحمت کو غیرمؤثرکرنے کی ایک صدی پرمحیط کوشش کا تسلسل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارے لوگ مقبوضہ ہیں اس وقت تک غیرمسلح کرنے کی باتیں ہمارے لوگوں کو ختم کرنے اور بین الاقوامی ہتھیاروں سے مسلح اسرائیل کی جانب سے انہیں ختم کرنے کے لیے آسان شکار بنانے کی کوشش ہے۔

خالد مشعل نے کہا کہ اگر ہم اس حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایک ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جس کے نتیجے میں تعمیر نو اور ریلیف کی اجازت ہو اور یقینی بنایا جائے کہ غزہ اور صہیونی ریاست کے درمیان جنگ نہ بھڑکے۔

حماس کے رہنما نے بتایا کہ یہ ایک منطقی نکتہ نظر ہے اور حماس قطر، ترکیے اور مصر جیسے ثالثوں اور براہ راست مذاکرات کے ذریعے ثالثوں کی توسط سے امریکا کو آگاہ کیا ہے یا اس حوالے سے حماس کے وژن کا ادراک ہے، یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے لیے بڑی کوششوں کی ضرورت ہے صرف غیرمسلح کرنے کی بات نہیں ہے۔

خالد مشعل نے کہا کہ مسئلہ غزہ میں موجود حماس اور دیگر مزاحمتی فورسز کی ضمانت کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ اسرائیل ہے جو فلسطینیوں کا اسلحہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور انہیں ملیشیا کے حوالے کر افراتفری پھیلانا چاہتا ہے۔

Scroll to Top