ترکی کی منافقت کھل کر سامنے آ گئی ایران نے امریکہ کے لیے تیل لے جانے والے ترک ٹینکرز دھر لیے

اسلام 24/7کے مطابق  ایرانی بحریہ اور اسلامی انقلاب کے محافظ (IRGC) نے خلیج فارس میں دو ترک پرچم والے آئل ٹینکرز کو روک کر قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ دونوں  جہاز تقریباً ایک ملین لیٹر ایندھن (جیٹ فیول) لے کر جا رہے تھے جو براہ راست امریکی ایئر کرافٹ کیریئر USS Abraham Lincoln کے لیے بھیجا جا رہا تھا۔

عملے کے تقریباً 15 غیر ملکی ارکان (زیادہ تر فلپائنی، بھارتی اور یوکرینی) کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹینکرز آبنائے ہرمز میں جاری روس-چین-ایران مشترکہ بحری مشقوں کے دوران وارننگز اور لاوارننگ کے باوجود غیر قانونی طور پر داخل ہوئے۔ ایران نے اسے امریکی بحریہ کی براہ راست معاونت اور خطے میں جارحیت کا ثبوت قرار دیا ہے۔

ترکی کی گھٹیا منافقت اور دغا بازی ترکی ایک طرف ایران کے ساتھ “برادرانہ تعلقات” اور “اسلامی یکجہتی” کا ڈھونگ رچاتا ہے، دوسری طرف خفیہ طور پر امریکی جنگی جہازوں کو ایندھن سپلائی کر کے ایران کے خلاف امریکہ کا کھلا ہاتھ بن رہا ہے۔

جب ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی پانیوں کی حفاظت کرتا ہے تو ترکی چیخ مچاتا ہے، مگر جب خود شام، عراق اور لیبیا میں دوسروں کی سرزمین پر قبضہ کرتا ہے تو “قومی سلامتی” کا بہانہ بناتا ہے۔

یہ وہی ترکی ہے جو نیٹو کا سب سے بڑا غلام ہے، امریکہ سے F-16 اور میزائل لیتا ہے، مگر ایران کے خلاف کھل کر امریکہ کا ساتھ دیتا ہے اور پھر بھی “مسلم امہ” کا لیڈر بننے کا دعویٰ کرتا ہے۔

ایران کا یہ اقدام نہ صرف ایک قانونی حق ہے بلکہ ترکی کی اس گھٹیا دوغلی پالیسی پر ایک زوردار طمانچہ بھی ہے۔

Scroll to Top