ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ جس کی معائنہ کاری مسلسل آئی اے ای اے کے توسط سے انجام پا رہی تھی نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر کھلا وار ہے۔
سید عباس عراقچی نے فرانس کے “لی مونڈ اخبار” کو انٹرویو دیتے ہوئے، امریکی صدر کے اس دعوے کا بھی جواب دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 13 سے 25 جون کے درمیان امریکہ اور صیہونی حکومت نے ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کردیا ہے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حملے کے بعد ایران کے ایٹمی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور اس وقت ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس پوزیشن میں ہیں کہ ہرجانہ طلب کریں لیکن ایک پورے پروگرام کو تباہ کرنا یا کسی ملک سے یہ درخواست کرنا کہ اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کو روک دے جارح ممالک کے غلط اندازوں کی عکاسی کرتا ہے جبکہ ایران اپنے جوہری منصوبے کو اپنی توانائی، طبی، ادویات کی تیاری اور زراعت کے شعبوں میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر آئی اے ای اے کی کڑی نظر تھی اور یہ منصوبہ عالمی قوانین کے عین مطابق چل رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی صنعت صرف چند عمارتیں اور وسائل نہیں، بلکہ سائنس کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے ایک قوم کے عزم کا نتیجہ ہے، جسے تباہ کرنا ناممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے نے بھی بارہا اپنی رپورٹوں میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایران کا ایٹمی پروگرام کبھی بھی پرامن اہداف سے فوجی سرگرمیوں کی طرف نہیں گیا ہے۔
سید عباس عراقچی نے زور دیکر کہا کہ جو چیز ناقابل تلافی ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاہدے پر لگنے والی کاری ضرب اور مغربی ممالک کی اس پر خاموشی ہے۔
امریکی بمباری کے بعد، واشنگٹن سے مذاکرات کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے زور دیکر کہا کہ ایران نے ہمیشہ برابری اور احترام کی بنیادوں پر مذاکرات کے لیے تیاری کا ثبوت پیش کیا ہے لیکن دوسری جانب امریکہ ہے جس نے سن 2018 میں ایک بین الاقوامی معاہدے کو پاؤں تلے روند ڈالا اور اس بار بیچ مذاکرات میں ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ان جارحانہ حملوں کا تباہ کن ماحولیاتی اور انسانی نتیجہ نکل سکتا تھا جس سے نہ صرف ایرانی عوام کی سلامتی اور صحت بلکہ پورے علاقے کے عوام کی صحت کو سنجیدہ خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔
وزیر خارجہ عراقچی نے زور دیکر کہا کہ سفارتکاری ایک دوطرفہ شاہراہ ہے جسے امریکہ نے فوجی اقدام کے ذریعے تباہ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات اسی صورت میں ممکن ہیں کہ امریکہ اپنی غلطیوں کی ذمہ داری کو قبول، رویہ کو تبدیل اور اس بات کی ضمانت فراہم کرے کہ مذاکرات کے بیچ فوجی اقدام نہیں کرے گا۔