ایران صرف ضمانت کی صورت میں جنگ کے مکمل خاتمے پر آمادہ ہوگا: عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے واضح ضمانت کا خواہاں ہے، محض جنگ بندی قابل قبول نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ محدود نوعیت کا رابطہ موجود ہے تاہم کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، جب کہ واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی تجاویز پر ایران نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ براہ راست پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، جو حالیہ کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

تاہم عباس عراقچی نے واضح کیا کہ اس رابطے کے باوجود کسی قسم کے باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ سیکیورٹی سے متعلق بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران نے امریکا کے 15 نکاتی تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا، ایران نے کوئی شرائط نہیں لگائی ہیں، ایران جنگ کا مکمل خاتمہ ہی قبول کرے گا، ساتھ ہی ایران کو گارنٹی بھی چاہئے تاکہ ایران پر دوبارہ حملے نہ ہوں اور نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے۔

امریکا کی جانب سے ممکنہ حملے کی دھمکیوں کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اپنے مخالفین کے اقدام کا انتظار کر رہا ہے اور اگر حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہوں گی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کی حالیہ پریس بریفنگ کے جواب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ردِ عمل ظاہر کیا۔

Scroll to Top