ایران میں داخلی طور پر جو کچھ ہورہا ہے اس میں ایرانی کم غیر ملکی زیادہ ملوث ہیں۔باخبر زرائع کے مطابق تہران سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بڑی تعداد میں غیر ملکی پکڑے گئے ہیں جن میں افغانی، بھارتی، پاکستانی، ترک، کرد اور تاجیکی شامل ہیں۔ان افراد کو یا تو دہشتگردانہ کارروائی انجام دیتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے یا انہیں انکی کمین گاہوں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا ہے۔اسوقت ایرانی عوام کی اپنی حکومت اور نظام حمایت دیدنی یے۔تہران سمیت مختلف بڑے شہروں مین عوام نے اپنی مدد دو اہم کام انجام دیئے ہیں۔پہلا یہ کہ عوام نے چھوٹے چھوٹے گروہ تشکیل دے کر دہشتگردوں اور جاسوسوں کی شناسائی شروع کردی یے جس کی بدولت بہت کم وقت میں سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کو بہت زیادہ کامیابی حاصل ہوئی ہے دوسرا یہ کہ عوام نے اپنی مدد اپ کے تحت اشیائے خورد و نوش کے لئے سسٹم تشکیل دیا ہے جس کی بدولت طے شدہ مقدار میں ہی یہ اشیاء صارفین کو دی جارہی ہیں تاکہ ہر ہر شہری تک یہ اشیاء با آسانی پہنچ سکیں۔حکومتی سسٹم پر تنقید کرنے والے افراد بھی اسوقت تمام تر اختلافات کو پس پشت ڈال کر صرف ملکی بقا کی باتیں کررہے ہیں۔
حجت الاسلام یوشع ظفر حیاتی قم المقدسہ