پاکستان اگر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوا تو یہ خودکشی ہوگی، اسکاٹ رِٹر

مغربی میڈیا کی رپورٹ:

سابق امریکی میرین کور انٹیلیجنس افسر، اقوامِ متحدہ کے سابق اسلحہ معائنہ کار (UN Weapons Inspector) اور فوجی و جیو پولیٹیکل تجزیہ کار اسکاٹ رِٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کو بہت محتاط رہنا ہوگا کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے، پاکستان میں شیعہ آبادی بھی بڑی تعداد میں ہے اور اسلام پسند بھی کافی ہیں۔ اور سعودی عرب کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا تھا وہ اسرائیل کو مضبوط کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس سے تحفظ کے لیے تھا۔ اگر پاکستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو یہ دراصل پاکستانی حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا اگر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے مقابلے میں اُس ملک کے خلاف کھڑا ہوتا ہے جس نے اسرائیل کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت کی ہے، تو یہ خودکشی کے مترادف ہوگا۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ زیادہ تر محض بیانات ہیں، کیونکہ انہوں نے ایک معاہدہ کیا ہے اور انہیں کچھ نہ کچھ کہنا پڑتا ہے، لیکن میں اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ایک نمایاں حصہ شیعہ ہے، تقریباً 10 سے 15 فیصد۔ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وہاں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملوں کی خبریں بھی آئیں۔ اس لیے اگر ایسی صورتحال بنتی ہے تو پاکستانی حکومت کے لیے حالات اچھے نہیں ہوں گے، پہلے ہی وہاں جرنیلوں کے اندر اختلافات کی خبریں آ چکی ہیں۔ ایک جنرل نے بغاوت کی ہے اور زیرِ زمین بھی کچھ سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایسی صورتحال پاکستان کو اندر سے کمزور کر سکتی ہے، حتیٰ کہ اسے اندرونی طور پر ٹوٹنے کے قریب لے جا سکتی ہے۔ اور یقین کریں، بھارت ایسی صورتحال دیکھ کر خوش ہوگا۔ ابھی متحدہ عرب امارات میں بھی ایک وارننگ جاری ہوئی ہے کہ موجودہ حالات کے باعث ممکنہ میزائل خطرہ موجود ہے۔ لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ فوراً محفوظ جگہوں پر پناہ لیں، کھڑکیوں اور دروازوں سے دور رہیں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔ خاص طور پر دبئی میں بہت سے یورپی اور مغربی لوگ ہیں جو جنگی حالات کے عادی نہیں ہیں، اس لیے یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے بھی اچھی نہیں لگتی۔
ان کا کہنا ہے کہ اب ایران کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کی بات کریں۔ آپ نے یوکرین کی مثال دی۔ یوکرین نے جنگ کا آغاز ایک بڑی فوج کے ساتھ کیا تھا جسے 2015 کے بعد سے نیٹو نے تربیت دی تھی۔ تقریباً ہر 30 دن بعد ایک بٹالین کے برابر فوجیوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ تقریباً 60 ہزار فوجی نیٹو نے تربیت دیے تھے، اس کے علاوہ یوکرین کے پاس پہلے سے ہی لاکھوں فوجی موجود تھے۔ لیکن موسمِ گرما کے وسط تک روس نے اس فوج کو بڑی حد تک تباہ کر دیا تھا۔ اس بارے میں زیادہ بات نہیں کی جاتی، مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ فوج بنیادی طور پر ختم ہو چکی تھی۔ اسی وجہ سے امریکہ کو 48 ارب ڈالر کا نیا لینڈ لیز پروگرام شروع کرنا پڑا اور نیٹو کو ایک نئی فوج تیار کرنی پڑی جس میں بڑی تعداد میں کرائے کے جنگجو بھی شامل تھے۔
امریکی دفاعی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ میری بات کا مقصد یہ ہے کہ نیٹو مسلسل یوکرین کو وسائل فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ روس کا مقابلہ کر سکے۔ روس نے بھی جنگ کا آغاز محدود وسائل کے ساتھ کیا تھا۔ وہ ایک لاکھ سے کم فوجیوں کے ساتھ داخل ہوا جبکہ یوکرین کی فوج اس وقت تقریباً چھ لاکھ تھی۔ عام طور پر جنگ میں تین کے مقابلے میں ایک کا تناسب چاہیے ہوتا ہے، یعنی روس کو تقریباً 18 لاکھ فوجیوں کے ساتھ آنا چاہیے تھا، لیکن وہ کبھی اس کے قریب بھی نہیں پہنچا۔ اب ایران کی بات کرتے ہیں۔ 2005 میں ڈک چینی نے ایران پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ امریکہ کی فوج آذربائیجان کو بیس بنا کر کیسپین سمندر کے راستے تہران پر حملے کی تیاری کر رہی تھی۔ ایرانی اس سے آگاہ تھے، اسی وقت ایران نے اپنے ملک کو 12 خود مختار فوجی اضلاع میں تقسیم کر دیا۔ یہ 2005 کی بات ہے۔ اس کے بعد سے ایران اسی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ اکیس سال سے ایران میزائل بنا رہا ہے، میزائل جمع کر رہا ہے، جنگی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے، معلومات جمع کر رہا ہے، منصوبے بنا رہا ہے اور کمزور پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔
امریکی دفاعی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اکیس سال کی تیاری کے بعد ایران ایک ایسا جنگی منصوبہ نافذ کر رہا ہے جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں تیار کیا گیا ہے۔ وہ اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہیں کسی چیز نے حیران نہیں کیا۔ اسی لیے وہ یہ سب کچھ کر رہے ہیں اور کامیابی سے کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے اس کی مکمل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ انہیں امریکہ کی صلاحیتوں کا بھی علم ہے اور اسرائیل کی طاقت کا بھی۔ یاد رکھیں، ایران حزب اللہ کا سب سے بڑا مشیر ہے۔ اس لیے ایران طویل عرصے سے اسرائیلی فضائیہ کے طریقۂ کار کو دیکھ رہا ہے اور اسے بخوبی سمجھتا ہے کہ اسرائیل کس طرح حملہ کرتا ہے اور اس سے کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح انہیں امریکہ کی طاقت اور اس کی تباہی کی صلاحیت کا بھی اندازہ ہے۔
آخر میں میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمارتیں تباہ کرنے سے ایران کی اصل صلاحیت کو نقصان نہیں پہنچ رہا۔ 1990 کی دہائی میں ایک عراقی عہدیدار نے مجھے کہا تھا کہ تم لوگ عمارتیں گرانے میں بہت اچھے ہو، اور ہم لوگ دوبارہ کنکریٹ ڈالنے میں بہت اچھے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم خالی عمارتوں پر بمباری کرتے ہو کیونکہ ہم پہلے ہی سب کچھ وہاں سے نکال چکے ہوتے ہیں۔ پھر ہم دوبارہ کنکریٹ ڈالتے ہیں، سامان واپس لے آتے ہیں اور وہ جگہ دوبارہ کام کرنے لگتی ہے۔ اس لیے یہ تصور کہ عمارتیں تباہ کرنے سے ایران کی صلاحیت رک جائے گی، انتہائی غلط ہے۔ اور آخر میں ایک اور بات کہ علی خامنہ ای وہ واحد وجہ تھے جس کی وجہ سے ایران نے ایٹمی بم نہیں بنایا۔
Scroll to Top