بھارت کے ایک صحافی نے اسرائیل میں اپنے قیام کے دوران وہاں میڈیا پر عائد سخت پابندیوں اور سنسرشپ کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ بھارتی نیوز ادارے ’سادھنا نیوز‘ سے وابستہ صحافی برج موہن سنگھ کے مطابق وہ 28 فروری سے 6 مارچ تک اسرائیل میں موجود رہے اور اس دوران انہیں جنگ کے اثرات اور معلومات تک رسائی کے حوالے سے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
برج موہن سنگھ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی پناہ گاہیں بھی دیکھی ہیں جو تقریباً سو فٹ گہرائی میں بنائی گئی ہیں جہاں حملوں کے دوران لوگ پناہ لیتے ہیں۔
ان کے مطابق کئی مواقع پر ایسے واقعات بھی پیش آئے جہاں ان پناہ گاہوں میں لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں لیکن اسرائیلی حکام کی جانب سے ان کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل سو فٹ گہرائی میں قائم بنکرز میں بھی تباہی مچا رہے ہیں، وہ ہلاک افراد کی لاشیں دیکھ چکے ہیں، اسرائیلی حکومت ہلاکتوں پر پردہ ڈال رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میزائل حملوں میں یہ فرق نہیں کیا جاتا کہ کون بھارتی ہے اور کون اسرائیلی، کیونکہ حملوں کے دوران ہر شخص خطرے میں ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں صحافیوں کو آزادانہ طور پر رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں نہ تو ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی تصاویر بنانے کی اجازت ہوتی ہے، نہ ہی ہسپتالوں تک آسانی سے رسائی دی جاتی ہے اور نہ ہی ہلاکتوں کے درست اعداد و شمار فراہم کیے جاتے ہیں۔