اسلام 24/7کے مطابق گزشتہ دس ماہ سے ایران جانے والے ہزاروں زائرین بائے روڈ تفتان بارڈر کے ذریعے ایران میں داخل نہیں ہو پا رہے، جس کے باعث بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کے زائرین شدید مشکلات اور اذیت ناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث زیارات کے شوقین زائرین مالی پریشانی، ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ کئی زائرین اپنے گھروں سے محدود وسائل کے ساتھ نکلے تھے، مگر طویل انتظار نے ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ تفتان میں بنیادی سہولیات کی کمی، شدید موسم اور مہنگائی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے یکم جنوری سے فیری سروس کے آغاز کا اعلان کیا گیا تھا، جسے زائرین کے لیے ایک متبادل اور آسان ذریعہ سفر قرار دیا جا رہا تھا، تاہم یہ فیری سروس اپنے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی معطل کر دی گئی، جس سے زائرین کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے: ٹرمپ کی ایک بار پھر رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو سنگین دھمکی
اس تمام صورتحال پر شیعہ مذہبی و سماجی قائدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران پاکستان تفتان بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے اور زائرین کو بائے روڈ ایران جانے کی اجازت دی جائے۔ شیعہ قائدین کا کہنا ہے کہ زیارات پر جانا شہریوں کا بنیادی حق ہے اور دس ماہ تک بارڈر بند رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ جب تک بارڈر مکمل طور پر نہیں کھولا جاتا، تب تک زائرین کے لیے متبادل سفری سہولیات، فیری سروس کی بحالی اور تفتان میں پھنسے زائرین کے لیے فوری ریلیف اقدامات کیے جائیں تاکہ غریب زائرین کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔