اسلام 24/7 کے مطابق اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان (TTAP) اور پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے رہنماؤں کی قیادت میں پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے۔
دھرنے میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور محمود خان اچکزئی سمیت دیگر پارلیمنٹرینز اور سیاسی رہنما شامل ہیں، جو سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔
احتجاجی دھرنا جمعہ کی شام سے شروع ہوا اور چوتھے روز بھی جاری ہے، جس میں حکومت پر سابق وزیراعظم کی مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کرنے اور اُنہیں بہتر ہسپتال شفٹ نہ کرنے کے خلاف دباؤ ڈالنے کی کوشش جاری ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
پولیس نے ریڈ زون کے اطراف سیکیورٹی سخت کر رکھی ہے جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس اور ڈی چوک کے گرد سخت کنٹرول برقرار ہے۔ احتجاج کے باعث ریڈ زون میں ٹریفک اور آمدورفت محدود ہے۔
دھرنے میں شریک بعض قائدین نے بتایا کہ پارلیمنٹرینز تک خوراک اور ادویات کی رسائی محدود ہو گئی ہے جس پر سیاسی حلقے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت سے انسانی ضروریات فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ دھرنا آئین و قانون کے تحفظ اور سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق مطالبات کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی سیاسی جدوجہد کی علامت بن چکا ہے، جس میں اہم سیاسی رہنما اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔