وائٹ ہاوس ترجمان کی ایران کو بالواسطہ سخت دھمکی ! فضا کشیدہ !

اسلام 24/7کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات سے چند گھنٹے قبل ایک سخت بیان جاری کیا ہے، جس میں ایران کو بالواسطہ دھمکی دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ “یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں”، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ “امریکہ کے پاس سفارت کاری کے علاوہ بھی بہت سے اختیارات موجود ہیں، کیونکہ صدر دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے کمانڈر ان چیف ہیں”۔

یہ بیان مسقط (عمان) میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات سے عین قبل سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف (ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ) اور جیرڈ کشنر (ٹرمپ کے داماد) شرکت کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے مزید کہا کہ “ٹرمپ انتظامیہ کی پہلی ترجیح سفارت کاری ہے، لیکن اگر بات چیت ناکام ہوئی تو صدر کے پاس فوجی آپشنز بھی دستیاب ہیں”۔ یہ بیان ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کا تسلسل ہے، جن میں انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو “بہت پریشان” ہونے کی تنبیہ کی تھی۔ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “خراب چیزیں” رونما ہو سکتی ہیں۔

امریکی مطالبات میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے علاوہ بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندی، علاقائی ملیشیا کی حمایت ختم کرنے اور ایران میں مظاہرین کے ساتھ “انسانی حقوق” کے معاملے کو شامل کیا گیا ہے۔ تاہم ایران کا اصرار ہے کہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رہیں۔ ایرانی حکام نے امریکی دھمکیوں کو “جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور مذاکرات مساوی بنیادوں پر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئیے: پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ اہم خبر آ گئی

یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکہ نے خلیج فارس میں بحری بیڑے کی موجودگی بڑھا دی ہے، جبکہ ایران نے بھی اپنے میزائل سسٹم کو تیار رکھا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران میں وسیع پیمانے پر احتجاج ہوئے، جن پر حکومت کی سخت کارروائی کے بعد ٹرمپ نے فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا یہ بیان مذاکرات سے قبل ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، لیکن یہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ بھی کر سکتا ہے۔ اگر بات چیت کامیاب ہوئی تو یہ خطے میں استحکام کی طرف ایک اہم قدم ہو گا، ورنہ جنگ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مسقط پہنچ کر کہا کہ “ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دھمکیوں کے سائے میں نہیں”۔ عالمی برادری، بشمول یورپی یونین اور عرب ممالک، نے دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

Scroll to Top