سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں، یہ حملے اُس وقت ایرانی شہروں اور اہم مقامات پر کیے گئے جب عمان کی ثالثی میں جاری سنجیدہ مذاکرات مثبت پیش رفت کی جانب گامزن تھے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ حملوں کا یہ وقت اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مذاکرات کو محض ایک پردے کے طور پر استعمال کیا گیا اور پہلے سے طے شدہ جارحیت کو عملی جامہ پہنایا گیا، سفارت کاری کو دانستہ طور پر سبوتاژ کیا گیا، اب کون کسی مذاکراتی عمل پر اعتماد کرے گا، جب بات چیت میں پیش رفت کا انجام براہِ راست بمباری کی صورت میں نکلے؟
اسرائیل کی جانب سے ’’پیشگی حملے‘‘ کا دعویٰ بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے، کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ایران اسرائیل پر کسی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور اسرائیل میں بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے تحت کیے گئے یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، بالخصوص اقوامِ متحدہ کے چارٹر، کی سنگین خلاف ورزی ہیں، یہ کارروائیاں خلیج فارس اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہیں.
ایک ترقی کرتی ہوئی اور اہم خطہ اب اس غیر دانشمندانہ طرزِ عمل کے باعث آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، ایران کا ردِعمل اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا جائز اور قانونی حق ہے، میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اس جارحیت کی دوٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرے۔