غزہ میں جاری تباہی اور انسانی بحران کے پس منظر میں منعقدہ “بورڈ آف پیس” اجلاس نے ایک نئی سفارتی بحث چھیڑ دی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ خارجہ کی شرکت کے دوران پاکستانی وزیراعظم کی اسی فورم پر موجودگی نے ملک بھر میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور غزہ کے مظلوموں کی حمایت کا دعویدار رہا ہے۔
ایسے میں اسرائیلی نمائندگی کی موجودگی میں کسی مشترکہ اجلاس کا حصہ بننا عوامی جذبات کے برعکس قرار دیا جا رہا ہے۔
ناقدین کے مطابق اگرچہ یہ کوئی دوطرفہ ملاقات نہیں تھی، تاہم ایک ہی پلیٹ فارم پر موجودگی بھی سفارتی پیغام رکھتی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے نے خاصی شدت اختیار کر لی ہے.
بعض صارفین اسے “سفارتی مجبوری” قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے اصولی مؤقف سے انحراف قرار دے کر حکومت سے وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حساس وقت میں ہر سفارتی قدم نہایت محتاط انداز میں اٹھایا جانا چاہیے تھا تاکہ کوئی مبہم تاثر جنم نہ لے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شرکت کا مقصد صرف اور صرف غزہ کی تعمیر نو، انسانی امداد اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کی کوششوں کو تقویت دینا تھا۔
ذرائع کے مطابق کسی بھی ملک کی موجودگی سے پاکستان کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
تاہم سوال بدستور موجود ہے: کیا امن کے نام پر ہونے والے فورمز میں شرکت کے دوران سیاسی و اخلاقی حساسیت کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ یہی سوال اس وقت ملکی سیاست اور عوامی مباحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔