کیا شیطانی جزیرہ ہوگیا یا کہیں اور منتقل ہوگیا؟آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے دفتر کے سے شائع ہونے والا اداریہ

ماجرا کچھ ایسے ہے جیسے کسی فلم کی کہانی ہو؛ بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ عجیب! ایک مالدار شخص، جس کے پاس ایک نجی جزیرہ اور کئی ذاتی جٹ طیارے تھے، جو کئی دہائیوں تک خاص لوگوں کو خاص خدمات فراہم کرتا رہا؛ امریکی صدور سے لے کرکئی ممالک کے وزرائے اعظم تک، کانگریس کے ارکان، سفارتکار، شہزادے، شاہی خاندانوں کے افراد، ملٹی بلینئر سرمایہ دار، آئی ٹی کے دیوہیکل نام، نوبل انعام یافتہ افراد، میڈِیا و ٹی چینلز کے مالکان ،موسیقی، فلم اور کھیل کے ستارےغرض ہر طبقے کی خاص چنی ہوئی شخصیات۔ یہ سب اُس خفیہ کلب کے گاہک تھے؛ دنیا کے بڑے بڑوں کا وہ کلب جس میں میزبان اپنے مہمانوں کی میزبانی شرمناک ترین حیوانی لذتوں سے کرتا تھا۔
اس میزبان کا نام اور کوئی نہیں بلکہ جفری اپسٹین تھاایک ایسا نام جو ان دنوں دنیا بھر کے میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
حال ہی میں اس سیاہ اور تاریخی فائل کے تین ملین دستاویزات سامنے آئے ہیں اور ہر گزرتے دن اس کے اندر سے نئے نام اور نئی شرمناک کہانیاں برآمد ہو رہی ہیں۔ ایک ایسا بدبو دار گٹر کہ جتنا گہرائی میں جاتے ہیں، اتنی ہی گندگی اور تعفن ظاہر ہوتا ہے، اور ساتھ ہی مزید سنجیدہ سوالات اور شکوک پیدا ہوتے جاتے ہیں۔
یہ گٹر امریکہ کے اندر حقیقی طاقت،دولت کے نیٹ ورک کی اصل تصویر کو مکمل کر رہا ہے؛
ریاکار، سزا سے محفوظ، فاسد، رشوت خور، اغواگر، اور شہوت پرست سب ایک جگہ جمع۔
اگرچہ لاکھوں دستاویزات شائع ہو چکی ہیں، مگر سوالات جوابوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر:
• یہ فحش اور مجرمانہ نیٹ ورک آخر کیسے قائم ہوا؟
• کیا یہ رسم ہے کہ سارا معاملہ ایک نام تک محدود کر دیا جائے؟ ایسے شخص کا نام جس کی چند ہفتے بعد ہی جیل میں مشکوک موت ہو گئی؟
• کیوں اور کیسے ٹھوس شواہد کے باوجود اس کیس کے مجرمین قانونی کارروائی اور سزا سے بچ گئے؟
• اپسٹین اور اس نیٹ ورک کے اسرائیل، خصوصاً موسادجو جنسی جال بچھانے اور بلیک میلنگ میں مہارت رکھتا ہےکے ساتھ تعلقات کتنے گہرے اور کلیدی تھے؟
• جدید کہلانے والے مغربی معاشروں میں یہ شرمناک رذیلتیں کیسے معمول بن گئیں اور محض سیاسی جھگڑوں اور قانونی بحثوں تک کیوں محدود ہو گئیں؟
• آخر ایک معاشرہ کس طرح ایسے ’’اشرافیہ‘‘ کو تیار کرتا ہے اور انہیں اقتدار کی کرسیوں پر بٹھاتا ہے؟
اور شاید ان سب میں اہم ترین سوال یہ ہو کہ:
کیا اپسٹین کی موت اور اس جہنمی جزیرے کی بندش کو اس عالمی مجرمانہ ٹولے کے اختتام کے طور پر مانا جا سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنا پہلے تمام سوالات سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ وہ سب ماضی سے متعلق تھے جبکہ یہ سوال حال اور مستقبل سے جڑا ہے۔ اگرچہ کوئی قطعی اور مستند جواب دینا آسان نہیں، لیکن معاملے کے پہلوؤں کا جائزہ ضرور لیا جا سکتا ہے۔
یہ بے شرم اور رذیل گروہ ’’ڈیمانڈ‘‘ کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا، اور اپسٹین کے نیٹ ورک نے اسی تاریک خواہش کے مطابق ’’سپلائی چین‘‘ قائم کی تھی۔ موجودہ رسوائی سے وہ پرانا نیٹ ورک بظاہر ٹوٹ گیا ہے، مگر تقاضا ابھی بھی موجود ہے؛ کیونکہ وہ تمام ’’پرانے گاہک‘‘ اب بھی زندہ اور فعال ہیں، صرف شاید زیادہ محتاط!
جب دنیا کی طاقتور ترین، مالدار ترین اور بااثر ترین شخصیات امریکا اور یورپ سے لے کر درجنوں ممالک تک کو ایسے گھناؤنے فحش اڈوں کے ذریعے کم از کم متاثر کیا جا سکتا ہے، اگر یوں نہ کہیں کہ ’’مٹھی‘‘ میں رکھا جا سکتا ہے، تو پھر کیوں کوئی نیا اپسٹین آج کام میں مصروف نہ ہو؟
کیا چیز اس فحش اور مجرمانہ نیٹ ورک کی دوبارہ تشکیل کو روک سکتی ہے؟
دنیا میں نجی جزیرے تو بہت ہیں…!

Scroll to Top