جعفریہ الائنس ضلع ملیر اور امامیہ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت اور نومنتخب رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کے سلسلے میں ایک کانفرنس ملیر کی جعفرِ طیار سوسائٹی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عباس تقوی اور خطیب مرکزی مسجد ڈاکٹر مولانا نسیم حیدر زیدی نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ظلم و استبداد کے سامنے جھکنے کے بجائے حق و صداقت کا علم بلند رکھا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے عالمِ اسلام میں حریت و مزاحمت کی نئی روح بیدار کی۔
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈے دراصل عرب سرزمین کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ امریکی مفادات اور صہیونی ریاست اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ 12 روزہ جنگ میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کا دنیا نے اعتراف کیا ہے اور ایرانی ڈرونز و میزائلوں نے دشمن کو واضح پیغام دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی سب سے بڑی طاقت اس کی قیادت اور نظریاتی استقامت ہے اور آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب نے صہیونی قوتوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ انقلابِ اسلامی کی بنیاد واقعۂ کربلا کے پیغامِ حریت و استقامت پر استوار ہے اور یہ تحریک کسی بھی صورت ظالم قوتوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید آیت اللہ خامنہ ای اسی مکتب کے پیروکار تھے جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے استقامت کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بعض عناصر دانستہ طور پر فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ملک اور امت کے مفادات کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔
علامہ ناظر عباس تقوی نے یکم مارچ کو کراچی میں زخمی ہونے والے افراد کو مبینہ طور پر فون کالز کے ذریعے ہراساں کیے جانے کی بھی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ انتظامیہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس عمل کو فوری طور پر بند کرائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر زخمیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ رہبرِ شہید کے قاتلوں کو کسی قسم کا تحفظ فراہم نہ کیا جائے۔ کانفرنس کے اختتام پر آیت اللہ خامنہ ای کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی اور عالمِ اسلام کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔