170 سیٹ لینے والے کو جیل میں ڈال دیا گیا اور 80 سیٹ لینے والا حکومت میں آگیا، ایم کیو ایم

 متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ آئین سے بغاوت قبول نہیں، سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاق پر حملہ ہے، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، ایم کیو ایم کے ہوتے سندھو دیش کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سینئر مرکزی رہنماؤں مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، امین الحق، فیصل سبزواری اور مرکزی کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ مرکز بہادر آباد کراچی میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک اہم موڑ پر داخل ہوگئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے، ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرداد منظور ہوئی، ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی جانب سے تمام مکاتب فکر سے سوال ہے، کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قراداد منظور کر سکتا ہے۔

سندھ اسمبلی میں منظور قراداد پاکستان کے خلاف ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 1971ء میں ملک کو توڑا گیا، تمام صوبوں نے اردو کو قومی زبان مانا سوائے سندھ کے کیونکہ مقصد کچھ اور تھا جو اب کھل کر سامنے آچکا ہے، ماضی میں ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ بھی پاکستان کی تقسیم کا نعرہ تھا۔ 170 سیٹ لینے والے (شیخ مجیب) کو جیل میں ڈال دیا گیا اور 80 سیٹ لینے والا (بھٹو) حکومت میں آگیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں ہے، مسائل کا حل مکالمہ ہے، پیپلز پارٹی نے کس خوف کی وجہ سے قراداد پیش کی، ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے اور صوبے اس کے حصے ہیں۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے، کسی صوبے میں لسانیت کی بنیاد پر کیا تقسیم ملتی ہے؟

یہ قرارداد سندھو دیش کے خواب کو برقرار رکھنے کیلئے ہے، سندھ ملک کا امیر ترین صوبہ ہے، سب سے زیادہ ملک غربت بڑھی تو وہ سندھ صوبہ ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سندھ کی مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرائی جائے، درست مردم شماری ہوگئی تو سندھ کی قسمت بدل جائے گی، بھٹو صاحب کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا اختیار ہے۔

 خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کی آبادی میں 33 فیصد کم گنا گیا، پاکستان کے حق کیلئے اٹھنے والی ہر آواز کو غداری کہہ کر دبایا جاتا ہے، ایم کیو ایم کا کوئی اقدام پاکستان کے خلاف نہیں، ایم کیوایم کے بانی نے ایک نعرہ لگایا تو ہم نے اس کو چھوڑ دیا اور ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاق سے سندھ کو 30 ہزار ارب روپے ملے ہیں، ان 30 ہزار ارب میں سے آدھے تو کراچی کو ملنا چاہیے تھا، وفاق سے ملنے والی رقم لگتا ہے حکومت سندھ عیاشی پر خرچ کرتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ افواج پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں مردم شماری کرائیں، پاکستان کی تاریخ 47ء سے شروع ہوتی ہے لیکن پاکستان کے مختلف علاقوں کی تاریخ تو ہزاروں سال پرانی ہے۔

پاکستان کے آئین میں صوبے بنانے کا ذکر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسی پارٹی ہے جو اپنے لیڈر کے بنائے آئین کے خلاف قراداد اسمبلی میں پیش کرتی ہے، اب بات آگے بڑھے گی، پیپلز پارٹی بھٹو کے نام پر کھاتی اور کماتی ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین جو کہ ایک زندہ دستاویز ہے اس پر مکمل عمل کیا جائے، پاکستان کے آئین کا آرٹیکل (4) 239 نئے صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے، لیکن پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے روگردانی کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے ہی میئر کو اختیارات دینے کو تیار نہیں۔

Scroll to Top