نظام ولایت سے تجدید عہد کا ایک پروقار اجتماع: خصوصی رپورٹ

نظام ولایت سے تجدید عہد کا ایک پروقار اجتماع
رپورٹ: انجم ترمذی

12 اپریل 2026 کو لاہور کے لگ بھگ 18 قرآنی مراکز اور مختلف ملی تنظیموں نے مل کر قومی مرکز شادمان، لاہور میں ایک پروقار فیملی فیسٹیول کا انعقاد کیا، جس کا عنوان “نظامِ ولایت سے تجدیدِ عہد” رکھا گیا تھا۔ یہ پروگرام رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے منعقد ہوا، جس کے ذریعے نئی نسل کو شہید کی سیرت اور نظامِ ولایت کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔ فیسٹیول کا ایک اہم مقصد دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو حق و باطل کی پہچان کرانا اور انہیں انقلابِ اسلامی کی قیادت کے ساتھ عہدِ وفا کی تجدید کا موقع فراہم کرنا تھا۔

اس پروگروام میں لاہور کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں افراد منجملہ مرد، خواتین اور بچوں نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے اپنے خانوادوں کے ہمراہ شرکت کرکے ولایت و رہبری سے اپنی عقیدت اور وفاداری کا عملی مظاہرہ کیا۔ پروگرام کا آغاز عالمی شہرت یافتہ قاری علامہ فاضل ایمانی کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس نے حاضرین کے قلوب کو نورِ ایمان سے منور کر دیا۔ بعد ازاں کراچی سے تشریف لائے معروف منقبت خواں شاہد علی شاہد بلتستانی نے اپنے انقلابی کلام کے ذریعے محفل کو گرما دیا۔ خصوصاً بچوں کے ساتھ مل کر پیش کیا گیا ترانہ “سلام فرماندہ” ایک روح پرور منظر پیش کر رہا تھا، جس نے حاضرین کے جذبات کو مہمیز دی۔

اس روحانی و معنوی اجتماع سے مختلف معزز شخصیات نے خطاب کیا، جن میں ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران آغائے ڈاکٹر مسعودی، علامہ امین شہیدی (سربراہ امتِ واحدہ پاکستان)، علامہ شیخ محمد علی فضل، شیخ محمد باقر جاوا، عالمہ سکینہ مہدوی، علامہ سید اسد رضا نقوی، علامہ ڈاکٹر دانش نقوی اور علامہ ڈاکٹر سید علی عباس نقوی شامل تھے۔ ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران آغائے ڈاکٹر مسعودی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قابل صد تحسین ہیں آپ سب پاکستانی بہن بھائی، جو آج رہبر معظم سے “تجدید عہد” کے لیےجمع ہوئے ہیں، رہبر شہید اور موجودہ رہبر بھی ملت پاکستان سے دلی محبت و عقیدت کا تعلق رکھتے ہیں۔

آغائے ڈاکٹر مسعودی نے اپنے خطاب میں پاکستانی عوام کے جذبۂ ولایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید اور موجودہ رہبر دونوں کو ملتِ پاکستان سے خصوصی محبت ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں علامہ اقبال کے اشعار بھی پیش کیے۔ علامہ امین شہیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم موجودہ رہبر کی اطاعت و پیروی میں اسی طرح ثابت قدم رہیں۔ انھوں نے اتحاد اور ولایت فقیہ سے وابستگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

علامہ امین شہیدی نے مزید کہا کہ تجدید عہد با ولایت اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان بھر کے مکتب اہل بیت ؑ کے علما و دانشور اور زعما پر إتمام حجت ہوچکی ہے، اب ضروری ہے کہ متحد و متفق ہوکر ایک ولایت کی حمایت و اتباع کا اعلان کریں۔ عالمہ سکینہ مہدوی نے لاہور بھر کے قرآن سنٹرز کے منتظمین، طلبا و طالبات کی بہترین کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ رہبر شہید سے ہماری محبت و عقیدت غیر متزلزل ہے، ہمیں فخر ہے کہ ہم ایک رہبر کے مطیع ہیں۔ علامہ شیخ محمد علی فضل نے اپنے خطاب میں کہا کہ رہبرِ شہید اور موجودہ رہبر دونوں امت کے لیے اللہ کی نعمت ہیں، جن کی قدر اور اطاعت ہم سب پر لازم ہے۔

استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر دانش نقوی نے کہا کہ مختلف تنظیموں اور اداروں کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سب حق، اتحاد اور ایمان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ علامہ سید اسد رضا نقوی نے شرکاء کے ہمراہ تجدیدِ عہد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم عدلِ اجتماعی کے قیام کی جدوجہد میں اپنے رہبر کے دست و بازو بنیں گے۔

آخر میں علامہ ڈاکٹر علی عباس نقوی نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد نظامِ ولایت کے سائے میں منظم ہو کر باطل قوتوں کے مقابل ایک مضبوط دیوار بننا ہے۔ انہوں نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

صدر انجمن حسینیہ خواجگان نارووالی، محمد باقر جاوا نے کہا کہ رہبرِ شہید کی جدائی ایک عظیم صدمہ ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس راہ میں بہنے والا خون تحریکوں کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ یہ اجتماع اتحاد، شعور اور ولایت سے وابستگی کا ایک عملی مظہر تھا، جس نے اس عزم کو مزید تقویت دی کہ اہلِ ولایت ہر دور میں حق کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض معروف سیاسی و سماجی راہنما اور سیاسی تجزیہ نگار سید انجم رضا ترمذی نے انجام دیئے۔

اس پروگرام کی سب سے نمایاں خصوصیت بچوں کے لیے مختص ایک وسیع و عریض ہال تھا، جہاں انہیں شہیدِ رہبر اور دیگر شہدا کی عظیم قربانیوں سمیت اسلامی اقدار سے جوڑنے کے لیے مختلف تربیتی سرگرمیاں ترتیب دی گئی تھیں۔ بچوں کی ذہنی اور فکری نشوونما کے لیے جہاں ڈرائنگ اور کلرنگ کے مقابلے منعقد ہوئے، وہاں مختلف ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے انہیں اسلامی تاریخ کے اہم پہلوؤں سے بھی روشناس کرایا گیا۔ تقریب کا ایک انتہائی جذباتی اور دلدوز منظر وہ تھا، جب فاطمیہ قرآن سنٹر کے بچوں نے “بایِ ذنبٍ قُتِلَت” کے عنوان سے میناب اسکول کی شہید طالبات کی یاد میں ایک خاکہ پیش کیا، جس نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔

اس کے بعد بچوں نے مل کر عالمی شہرت یافتہ ترانہ “شہادت” پیش کرکے ایک روح پرور سماں باندھ دیا۔ پروگرام کے اختتام پر بچوں کو عملی طور پر استعمار شکنی کا درس دینے کے لیے تیر اندازی کا مقابلہ کروایا گیا، جہاں انہوں نے علامتی میزائلوں کے ذریعے دشمنانِ اسلام (امریکہ و اسرائیل) کی تصاویر پر نشانہ لگا کر اپنی بیداری اور ملی شعور کا بھرپور ثبوت دیا۔ اس پروگرام میں بچوں، خواتین اور مردوں کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انتظام کیا گیا تھا، جس میں سب شرکاء نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ ان سرگرمیوں میں رہبر شہید کے اقوال پر مشتمل چھوٹے کارڈز، ڈرائنگ مقابلہ، استعمار شکن میزائلوں کے ذریعے تیر اندازی، دشمنان اسلام کی تصاویر سے اظہار برات اور دیگر بہت سی سرگرمیاں شامل ہیں۔

Scroll to Top