مظاہرین کا احتجاج رنگ لایا! پشاور میں امریکی قونصل خانہ مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

پاکستان میں امریکہ کے سفارت خانوں پر پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے پشاور میں امریکی قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا!

مظاہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا جائے گا، اور اس دوران ملک بھر میں کم از کم 40 مظاہرین شہید جبکہ 50 سے زائد گرفتار ہوئے۔

مظاہروں اور سفارتی اقدامات کے بعد پاکستان میں سکیورٹی ہائی الرٹ، شہری شدید خدشات میں، اور بین الاقوامی توجہ پاکستان کی جانب مرکوز ہو گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر پشاور میں اپنا قونصل خانے مستقل طور پر بند کر دے گا، جو افغان سرحد کے قریب امریکہ کا سب سے اہم سفارتی مرکز رہا ہے اور 2001 میں افغانستان پر حملے سے قبل، دوران اور بعد میں اہم آپریشنز اور لاجسٹکس کے لیے استعمال ہوتا رہا۔

محکمہ خارجہ نے اس ہفتے کانگریس کو قونصل خانے بند کرنے کے ارادے سے آگاہ کیا

نوٹیفکیشن کے مطابق، پشاور قونصل خانے میں 18 امریکی سفارتکار اور دیگر سرکاری اہلکار اور 89 مقامی عملہ کام کر رہے ہیں۔ بند کرنے پر تقریباً 3 ملین ڈالر خرچ ہوں گے، جن میں سے 1.8 ملین ڈالر اس وقت استعمال ہونے والے عارضی دفتر کے طور پر کام آنے والے آرمورڈ ٹریلرز کی منتقلی پر خرچ ہوں گے۔

Scroll to Top