انجینئر محمد علی مرزا پر حملے کرنے والا کون نکلا؟

انجینئر محمد علی مرزا پر حملہ کر نے والا کون تھا؟

اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایک شخص نے انجینیئر محمد علی مرزا پر حملہ کرتے ہوئے اُن کے عمامہ کو زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر اُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر کے مطابق اس موقع پر حملہ آور نے بلند آواز میں نعرے بازی کی اور مذہبی سیاسی جماعت کے نعرے لگائے جہلم میں انجینیئر محمد علی مرزا کی اکیڈیمی میں ہر اتوار کو درس و تدریس اور سوال جواب کا سیشن ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں اور اس موقع پر دینی موضوعات پر سوالات و جوابات ہوتے ہیں ملزم اتوار کی صبح نو بجے اکیڈیمی میں داخل ہوا تھا اور یہ اکیلا ہی یہاں موجود رہا تھا۔

صحافی نادر بلوچ کے مطابق حملہ آور شخص اکیڈمی میں لیکچر سننے کے غرض سے داخل ہوا اور اکیڈمی داخل ہوتے ہی محمد علی مرزا پر حملہ آور ہوگیا، محمد علی مرزا حملے میں محفوظ رہے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور کا نام محمد عاصم ہے اس کا تعلق ابیٹ آباد سے ہے، راولپنڈی کے علاقے صادق آباد میں کام کرتا ہے۔

حملے سے قبل علامہ خادم رضوی کے لگائے ہوئے نعروں کو بھی دہرایا۔

اتوار کے روز درس و تدریس کا سیشن صبح 10 بجے شروع ہوا تھا جو کہ کسی وقفے کے بغیر تقریبا ڈیڈھ بجے تک جاری رہا اور یہ شخص پورے سیشن میں موجود رہا، سیشن ختم ہونے کے بعد مرکزی ہال سے منسلک ایک کمرہ الگ سے مختص کیا گیا ہے جہاں دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ محمد علی مرزا کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں۔

مذکورہ شخص بھی تصویر بنوانے کیلیے اُس کمرے میں آیا اور اس نے وہاں کمرے میں موجود انتظامیہ کے ایک شخص کو اپنا موبائل فون پکڑا کر کہا کہ ‘میری انجینیئر صاحب کے ساتھ تصویر بنا دو تاکہ یادگار رہے۔

جونہی ملزم انجینیئر محمد علی مرزا کے قریب ہوا تو اُس نے اُن پر اچانک حملہ کردیا اور دونوں ہاتھوں کی مدد سے اُن کا گلہ دبانے کی کوشش کی۔

محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ کے مطابق اس اچانک پیش آنے والے واقعے پر وہاں شور مچ گیا اور ہال کے اندر اور باہر موجود لوگ اس کمرے میں پہنچے جنھوں نے حملہ آور شخص کو قابو پا لیا اور اسے حوالہ پولیس کیا۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزم کی جیب سے اس کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا ہے جس کے مطابق اس کی عمر 26 سال ہےاور وہ خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھتا ہے۔

Scroll to Top