تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
انقلاب اسلامی ایران ایک نظام کا نام ہے۔ مغربی تجزیہ نگار وں نے ہمیشہ اسے غلط سمجھا یہی وجہ ہے کہ ان کے تجزیے ان کی خواہشات کے عکاس تو ہوتے ہیں زمینی حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہی تجزیوں پر مغربی حکومتیں انقلاب اسلامی ایران کے حوالے سے پالیسیاں اختیار کرتی ہیں جو بیک فائر کر جاتی ہیں۔یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم رہبر معظم ؒ کو شہید کریں گے اور انقلاب گِر جائے گا۔ یہ لوگ انقلاب اسلامی ایران کو بھی عراق، لیبیا یا وینزویلا جیسا کوئی ملک اور نظام سمجھ رہے تھے۔ ان کی جنگی پلاننگ پہلے چند دنوں کی اور اب کوشش کرکے چند ہفتوں کی ہے۔
یہ اسلامی انقلاب کی قیادت کو دنیا دار سمجھتے ہیں جو مالی مفادات کے تحت کام کرتی ہوگی یا جس کے نزدیک سے سب سے اہم چیز ان کی اپنی زندگی ہوگی جب وہ خطرے میں ہوگی تو وہ ہمارے پریشر میں آکر معاہدے قبول کریں گے اسی لیے جب تمام جہاز ایران کے گرد پہنچ گئے پھر بھی امریکی استعمار کی کوئی بات نہیں مانی گئی تو ٹرمپ بہت حیران ہوا کہ وہ سب کچھ دیکھ کر پریشرائز کیوں نہیں ہو رہے؟ ٹرمپ کی نمرودی حیرت کے بارے میں قرآن کی خوبصورت تعبیر ہے:
فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ(سورہ بقرہ ۲۸۵)
یہ سن کر وہ کافر مبہوت رہ گیا
ٹرمپ نے کہا کہ رہبر کے انتخاب میں اس کی مرضی شامل ہونی چاہیئے۔ استکباریت و فرعونیت کی انتہا دیکھیں یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہماری مرضی سے ہونا چاہیئے۔ یہ ایرانی نظام کو بھی دوسرے ممالک کے نظاموں کی طرح سمجھتے ہیں کہ یہاں بھی ان کی مرضی چلے گی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے خوب جواب دیا کہ امریکہ میں ٹرمپ کی مرضی سے نیویارک کا میئر نہیں لگ سکتا مگر وہ چاہتا ہے کہ ایران کے رہبر کا انتخاب اس کی مرضی سے ہونا چاہیئے۔
اس سے ایک صحافی نے پوچھا کہ نئے رہبر کے لیے آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کا نام آ رہا ہے اس پر کیا کہیں گے؟ اس نے کہا وہ مجھے قبول نہیں ہے اور ساتھ میں دھمکی بھی دے دی۔ رہبر معظمؒ کی شہادت کے بعد اسلامی نظام نے جنگی حالات میں خوب کام کیا ہے۔ رہبری کونسل نے جنگی معاملات کو بھی سنبھالا اور ساتھ میں گارڈین کونسل نے رہبر کے انتخاب کی ذمہ داری بڑے احسن انداز میں انجام دی۔ ایران کی انقلابی عوام بھی تحسین کی مستحق ہیں کہ جنہوں نے برستے میزائلوں میں ایران کی اہم سڑکوں اورمیدانوں کو اپنے وجود سے پر رکھا۔
ان کے عظیم جذبے کی وجہ سے دنیا مایوس ہوئی اور میڈیا پر لاکھوں کی تعداد میں لوگ دیکھ کر یہ کہا جانے لگا کہ ہم رجیم چینج نہیں چاہتے۔ اسی پاکیزہ جذبے کا نتیجہ ہے کہ وہ شرپسند عناصر بلوں میں گھسے رہے جو ایسے مواقع پر سرکشی کرتے ہیں۔ ایک ویڈیو بہت مشہور ہوئی کہ شیراز میں ایک تعزیتی پروگرام جاری تھا کہ جس کے پاس ہی صیہونیوں نے فضائی حملہ کر دیا لوگ پریشان ہونے کی بجائے کھڑے ہوگئے اور بلند آواز سے حیدر حیدر کے نعرے لگانے لگے۔
اسی طرح ایک تصویر میں انقلابی خواتین تلاوت قرآن کررہی ہیں اور حملے کے بعد دھواں ان کے عقب میں واقع بلڈنگ سے بلند ہو رہا ہے۔ ان بہنوں کے اطمینان نے ایک دنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ جب رات کو نئے رہبر کا اعلان ہوا کہ اب اس عظیم مرتبے پر آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای فائز ہو چکے ہیں تو ایران بھر میں لوگوں نے سڑکوں پر آ کر ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ ٹرمپ کو عملی جواب ہے کہ لو دیکھ لو ہم نے انہیں رہبر بنا لیا ہے اور آزاد اقوام آزاد فیصلے ہی کرتی ہیں۔
استکبار اور اس کے مقامی پیروکار کہہ رہے ہیں کہ یہ موروثیت ہوگئی۔ اس پر مشہور پاکستانی صحافی عامر خاکوانی نے اچھا جواب دیا ہے، لکھتے ہیں: سب سے پہلے تو آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کوئی شہزادے نہیں جس کا والد یا والدہ اپنی سیاسی جماعت اسے سونپ گئے ہوں۔ انہوں نے اپنی ہوش کی پوری زندگی انقلاب کے لئے ہی وقف کی ہے، محنت کی اور مشکل وقت کاٹا ہے، کم از کم تین عشرے۔ دوسرا آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے اپنے بیٹے کے حق میں وصیت نہیں کی تھی، بار بار پوچھے جانے کے باوجود ہلکا سا اشارہ بھی نہیں کیا تھا۔ تو یہ اس اعتبار سے ہرگز موروثیت نہیں۔
تیسرا یہ کہ آیت اللہ مجتبی خامنہ ای پاسداران انقلاب میں بہت مقبول ہیں، مزاحمتی تحریک میں ان کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔ آنے والے دن ایران کے لئے مشکل ہوں گے، ہر لیڈر پر سوال اٹھیں گے، ایسے میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے انقلابی بیٹے کا رہبر بننا بہتر ہے کہ کوئی انگلی نہیں اٹھا پائے گا۔ چوتھی بات یہ کہ موجودہ حالات میں رہبر انقلاب ایران بننا اپنی جان کو شدید خطرے میں ڈالنا ہے۔ وہ ایک دم امریکیوں کے لئے ایران کے موسٹ وانٹیڈ ٹارگٹ بن گئے ہیں۔ اس لئے اسے موروثیت کہنا بذات خود بڑی زیادتی، ظلم اور صرف مسلکی تعصب ہی ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
یہ آیت اللہ مجتبی خامنہ ای دام عزہ ہیں کہ انہوں نے محض ایک ہفتے کے اندر اپنے والد، والدہ، بیوی، بیٹے، بھانجی، بھانجے، بہن اور بہنوئی کو راہ خدا میں قربان کر دیا۔رعایت اللہ فاروقی دیوبندی صحافی ہیں کمال کا لکھتے ہیں انہوں نے اس انتخاب پر خوب لکھا:
٭ باپ شہید
٭ ماں شہید
٭ بہن شہید
٭ بیوی شہید
٭ بیٹی شہید
یوں لگتا ہے فارسی کے بے مثل شاعر نظیری نیشاپوری نے یہ مصرع انہی کے لئے کہا تھا:
“کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ ما نیست”
یہ مصرع اس قدر اعلی معنویت لئے ہوئے کہ اقبال نے اس پر پہلا مصرع جما کر اسے اپنا لیا تھا
اور یوں اصل شعر کی جگہ پہلا مصرع اقبال کا اور دوسرا نظیری کا مل کر جو شعر بنا وہ برصغیر پاک و ہند میں زیادہ مقبول ہوا:
بہ ملکِ جم نہ دہم مصرعِ نظیری را
کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلہ ما نیست
ترجمہ: میں جمشید کی سلطنت کے عوض بھی نظیری کا یہ مصرع نہ دوں ۔۔۔۔ جو قربان نہیں ہوا وہ میرے قبیلے سے نہیں