تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
بہت سارے روزہ داروں کو روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔[1] روزہ رکھنے میں ایک بنیادی حکمت یہ ہے کہ انسان محتاجوں اور ان لوگوں کے دکھوں کو محسوس کرے، جو زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت یعنی “خوراک” کے حصول میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ باالفاظِ دیگر پیٹ بھرے ہوئے کو بھوکے کا احساس دلانے کی تحریک کا دوسرا نام لوگوں کو افطاری کرانا ہے۔ بلاشبہ افطاری کرانا فرض روزے کا بدل نہیں، لیکن تعلیم و تربیت کے ترازو میں کبھی کبھی افطاری کا پلڑا روزہ رکھنے سے زیادہ بھاری نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسروں کو افطاری کرانے سے انسانی فطرت کی یہ صلاحیت نکھرتی ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور ضروریات سے بڑھ کر دوسروں کی بھوک و پیاس کے بارے میں غوروفکر کرے۔ اگر کوئی شخص افطاری اس لیے کرائے کہ وہ اللہ کی رضا کیلئے دوسروں کی بھوک پیاس کو ختم کرے تو یہ عمل اُسے اخلاقی طور پر انتہائی طاقتور بنا دیتا ہے۔اس انتہائی اخلاقی طاقت کے بغیر انسانی معاشرہ نسل در نسل اخلاقی بقاء حاصل نہیں کرسکتا۔ یعنی نسل در نسل اچھے اخلاق سے مزیّن انسانوں کی تولید کیلئے دوسروں کو افطاری کرانے کی سُنّت کا احیا لازمی ہے۔
خطبۂ شعبانیہ میں رسولِ خداﷺ نے فرمایا: جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزّت کی قسم کھائی ہے کہ وہ نماز پڑھنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کو عذاب نہیں دے گا۔ اے لوگو! تم میں سے جو کوئی کسی روزہ دار مومن کو افطار کرائے، تو گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا اور اللہ تعالیٰ اس کی گذشتہ لغزشوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہم سب میں یہ طاقت نہیں کہ افطاری دیں اور لوگوں کو سیر کرسکیں۔
رسولِ خداﷺ نے فرمایا: چند کھجوروں کے ٹکڑوں اور تھوڑے سے پانی کے ذریعے بھی اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے لوگو! اگر کوئی شخص اس مہینے میں اپنے اخلاق کو نیک اور درست کر لے تو اس کے لیے پلِ صراط سے گزرنے کا پروانہ ہوگا اور جو اس مہینے میں اپنے ماتحتوں پر آسانی کرے اور سختی نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کا حساب آسان فرما دے گا۔
بہت سی روایات میں رمضان میں افطاری کرانے کے ثواب پر اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ کبھی اس کی فضیلت نفلی روزے بلکہ خود روزہ رکھنے سے بھی بڑھ کر بیان ہوئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کی سنتیں، جو رمضان میں محتاجوں کے لیے افطار دینے میں نمایاں ہیں، ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ دین نام ہی انسانی ہمدردی اور اخلاص کا ہے۔ امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: “عَنْ أَبِی عَبْدِاللّٰهِ علیہالسلام قَالَ: مَنْ فَطَّرَ صَائِماً فَلَهُ أَجْرٌ مِثْلُهُ؛”، “جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اسے اسی کے برابر اجر ملے گا۔”[2] اسی طرح ایک اور مقام پر آپ نے ارشاد فرمایا: “جو شخص کسی مومن کو افطار کرائے، اس کے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ شمار ہوتا ہے؛ اور جو دو مومنوں کو افطار کرائے، اللہ پر ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے۔”[3]
ماہ مبارک رمضان میں ہر فرد کی کوشش ہوتی ہے کہ اس عمل کے ذریعے حاصل ہونے والے ثواب سے محروم نہ رہے۔ اس کوشش سے حصولِ ثواب کا عمل ایک روحانی جدوجہد بلکہ عرفانی جہاد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ دوسروں کو افطاری دینے کے لمحات ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ حقیقی ایماندار وہی ہے، جو دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرے اور اپنی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹے۔ ابو شیخ ابن حیان سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “مَنْ فَطر صائما فی شهر رمضان مِنْ کسب حلال صَلَّت علیه الملائکه لیالی رمضان کُلٌها صافَحَهُ جَبْرائیل لیله القدْر و مَنْ صافَحَهُ جَبْرائیل یَرِقُّ قلبهُ و تَکْثُرُ دُمُوعُهُ” یعنی: “جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنے حلال رزق سے روزہ دار کو افطار کرائے، اللہ کے فرشتے تمام شبوں میں اس پر درود بھیجتے ہیں اور جبرائیل شب قدر اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔ جس کے ساتھ جبرائیل مصافحہ کرے، اس کا قلب نرم اور آنکھوں سے اشک بہت زیادہ ہوتے ہیں۔”[4]
اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے بیان فرمایا کہ سدیر نامی شخص رمضان کے شب و روز میں امام باقر علیہ السلام کے پاس آیا۔ امام نے پوچھا: “أَتَدرِی فِی أَیِّ لَیالیٰ نَحنُ؟“، “اے سدیر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سی راتیں ہیں۔؟ سدیر نے جواب دیا: “میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ ماه مبارک رمضان کی راتیں ہیں۔” امام نے پوچھا: “هَل یُمکنُک أَنْ تُفْرِجَ کُلَّ لَیلَةٍ عَبداً مِنْ أَبْناءِ إِسماعیل؟“، “کیا تم اس قابل ہو کہ ان راتوں میں ہر رات دس غلام آزاد کرسکو، جو اسماعیل کی اولاد میں سے ہوں؟ سدیر نے کہا: اتنی وسعت نہیں ہے۔ پھر امام نے پوچھا: “أَتَسْتَطِیع أَنْ تُفطِرَ مُسْلِماً کُلَّ لَیلة؟” تو کیا تم ہر رات ایک مسلمان مرد کو افطار دے سکتے ہو۔؟ سدیر نے کہا: ہاں، حتیٰ کہ دس مسلمانوں کو بھی افطار دے سکتا ہوں۔ امام نے فرمایا: “إِنَّما أَرادْتُ ذَلِکَ؛ فَإِنَّ إِفْطَارَ مُسْلِمٍ یُعادلُ فَرْجَ عَبْدٍ مِنْ أَبْناءِ إِسماعیل۔” یہی میں چاہتا تھا، اے سدیر! کیونکہ کسی روزہ دار مسلمان کو افطار دینا، اسماعیل کی اولاد کے ایک غلام کو آزاد کرنے کے برابر ہے۔” [5]
یہ تمام روایات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ افطار دینا دراصل دلوں کو نرم کرنے، روح کو بلند کرنے اور معاشرے میں بھائی چارہ و ہمدردی قائم کرنے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کو افطاری دینا اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں واضح طور پر نمایاں ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب حضرت امام زین العابدین علیہ السلام روزہ رکھتے، تو حکم دیتے کہ ایک گوسفند ذبح کیا جائے اور اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے دیگ میں ڈال دیا جائے۔ حضرت خود غروب آفتاب کے وقت دیگوں کا جائزہ لیتے اور روزہ رکھتے ہوئے خوشبودار آبگوشت (گوشت کا سالن) کی خوشبو محسوس کرتے۔ پھر فرماتے: “پیالے لائیں، یہ کاسہ یا پیالہ فلان کے لیے اور دوسرا کاسہ فلان کے لیے۔” اسی طرح ہر کاسہ (پیالہ) مخصوص شخص کے لیے بھر کر افطار کی تیاری کی جاتی، یہاں تک کہ آبگوشت ختم ہو جاتا۔ اس کے بعد حضرت خود نان و خرما سے افطار فرماتے۔ یہ منظر افطاری کے پہلو میں اخلاص، سخاوت اور ہمدردی کی اعلیٰ تعلیم دیتا ہے۔
ہمارے ارد گرد بہت سارے روزہ دار ماہِ مبارک رمضان میں بھی دوسروں کا خیال نہیں رکھ پاتے، چونکہ دِل نرم نہ ہو تو روزہ رکھنے والا بھی سخاوت نہیں کرسکتا۔ دوسری طرف اہلِ بیت ؑ کے ہاں افطاری کے وقت ہر شخص کے لیے مخصوص کاسہ تیار کرنا اور سب لوگوں کا یکساں خیال رکھنا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایک نرم دِل روزہ دار کو دوسروں کو افطاری کرائے بغیر روزہ رکھنے کی کی مکمل لذّت اور شیرینی محسوس نہیں ہوتی۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر افطاری دینے کے ثواب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اللہ کریم نے سورۃ انسان کی آیات ۵ تا ۸ میں اہل بیت علیہم السلام کے طرزِ عمل اور سنت کے مطابق اطعام اور افطاری دینے کی روشنی میں فرمایا کہ وہ اپنی خوراک محتاج، یتیم اور قیدیوں کو دیتے، تاکہ معاشرے کے یہ لوگ بھی اللہ کی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام یہ عمل کسی تعریف، تمجید یا دنیاوی انعام کے بجائے صرف اللہ کی رضا کے لیے انجام دیتے تھے۔
اس سے یہ ایک بات ہمیں ہمیشہ یاد رہنی چاہیئے کہ افطاری کرانا صرف اسی وقت عبادت ہے، جب اس میں قصدِ قربت ہو۔ اگر مقصد فخر، مقابلہ یا دنیاوی لین دین ہو تو قرآن و احادیث میں مذکور عظیم معنوی اجر حاصل نہیں ہوگا۔ امام علی ؑ کے اس فرمان میں سوچنے اور سمجھنے والوں کیلئے بہت کچھ ہے اور اسی پر ہم اپنی تحریر کا اختتام کرنا چاہیں گے: وَ قَالَ (علیه السلام): كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَ الظَّمَأُ، وَ كَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ وَ الْعَنَاءُ؛ حَبَّذَا نَوْمُ الْأَكْيَاسِ وَ إِفْطَارُهُمْ۔”، “کتنے ایسے روزہ دار ہیں، جنہیں اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی ایسے قیام کرنے والے ہیں، جنہیں اپنے قیام سے جاگنے اور تھکاوٹ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ خوشایند ہے کہ دانا لوگوں کا سونا اور ان کا افطار کرنا۔”[6]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع:
[1] رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع
[2] من لا یحضره الفقیه، ج 2، ص 134
[3] وسائل الشیعه، ج ۷، ص ۱۰۱
[4] الطبراني في “المعجم الكبير” (6162،
[5] الکافی، ج۴، ص۶۸
[6] حکمت 145 نهج البلاغه