پنجاب اسمبلی میں جمعرات کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی مشترکہ حملے کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کر دی گئی، جس میں فوری جنگ بندی اور حملوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی امتیاز محمود کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں کہا گیا کہ ’28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختار سرزمین پر فوجی حملے کیے جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔‘
قرارداد کے مطابق یہ ایوان اس بات پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں رپورٹس کے مطابق 1000 سے زائد افراد جان سے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے جبکہ رہائشی علاقوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔’خصوصاً جنوبی ایران کے شہر مینب میں ایک لڑکیوں کے سکول پر بمباری میں تقریباً 180 معصوم بچیوں کی شہادت ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جو انسانی اور اخلاقی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔‘
قرارداد میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے کئی افراد کی موت کو ’نہایت افسوس ناک‘ اور ’قابلِ مذمت واقعہ‘ قرار دیا۔
قرارداد میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور مینب کے سکول پر حملے سمیت شہری تنصیبات پر حملوں کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کروائی جائیں۔