غزہ و لبنان پر جارحیت اور عالمی بے حسی؛ڈاکٹر صابر ابو مریم کا خصوصی مضمون

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

مقبوضہ فلسطین کا علاقہ غزہ ایک بار پھر آگ و خون کی لپیٹ میں ہے۔ چند ماہ قبل جنگ بندی معاہدہ کیا گیا تھا، جس کے بعد قیدیوں کا دو طرفہ تبادلہ بھی عملی بنایا گیا، لیکن اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے مسلسل غزہ کے مکینوں پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی طرح لبنان میں بھی ایک سال سے زائد عرصہ سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور آئے روز لبنان کے مختلف جنوبی اور مضافاتی علاقوں میں شہری آبادیوں کو اسرائیل کی جانب سے خطرناک بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جنگ بندی کے دعوے اور معاہدوں کے باوجود بمباری، محاصرہ اور انسانی بحران میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر جنگ بندی موجود ہے تو پھر غزہ اور لبنان میں معصوم شہریوں کی لاشیں کیوں گر رہی ہیں۔؟

اگر عالمی برادری بیدار ہے تو پھر یہ خاموشی کیوں؟ شاید اس سوال کا جواب یہی ہو کہ عالمی برادری نام کی کوئی چیز باقی نہیں یا پھر یہ کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داریوں کو انجام نہیں دے رہی ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل تھرمو بیرک بم استعمال کر رہا ہے، جو انسانی جان کے لئے مہلک ترین ہتھیار ہیں۔

اس بم کے نتیجہ میں انسانی جسم ہوا میں بکھر جاتا ہے اور نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ اس بم کا درجہ حرارت 3500 سینٹی گریڈ ہے۔ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کی جانب سے غزہ اور لبنان میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے جنگ بندی معاہدوں کی بارہا خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں اور یہ سلسلہ حالیہ دنوں میں بھی جاری ہے۔

لبنان اور غزہ میں شہری آبادی، ہسپتال، پناہ گزین کیمپ اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی قوانین کی کھلی پامالی بھی ہے۔

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس انسانی بحران کی شدت کو واضح کرتی ہیں، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی نمائندہ فرانسیسکا البانیز کو مختلف مغربی حکومتوں کی جانب سے صرف اس لئے دبائو دیا جا رہا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں، کیونکہ انہوں نے غزہ اور لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم کو آشکار کیا ہے اور اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت استعفیٰ نہیں دیں گی۔

اس تمام تر صورتحال میں امریکی صدر ٹرمپ جو دنیا میں ایک مسخرے کی شناخت حاصل کرچکے ہیں، وہ مسلسل اسرائیلی جرائم کی پردہ پوشی میں مصروف عمل ہیں۔ ٹرمپ جو خود دنیا کے قوانین کو پامال کرنے کا مجرم ہے، ایک اور جنگی مجرم نیتن یاہو کو گذشتہ ایک سال میں چھ مرتبہ وائٹ ہائوس میں خوش آمدید کرچکا ہے۔

حالیہ عرصے میں مختلف امن کانفرنسوں اور فورمز کا انعقاد کیا گیا ہے، یہاں تک کہ ٹرمپ نے اپنی خود کی قیادت میں ایک خود ساختہ امن بورڈ بھی تشکیل دیا ہے اور اس میں اسرائیلی قیادت کی شرکت بھی شامل ہے۔

نیتن یاہو جیسے لوگ اور جنگی مجرم عالمی سطح پر امن کے بیانیے میں شریک نظر آتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ایک طرف امن کی بات ہو رہی ہے تو دوسری طرف غزہ میں مسلسل فوجی کارروائیاں کیوں جاری ہیں۔؟

کیا یہ فورمز محض سفارتی دباؤ کم کرنے کا ذریعہ ہیں یا واقعی کسی پائیدار حل کی طرف پیش رفت۔؟

ایک طرف ٹرمپ نے نیتن یاہو جیسے مجرم کو نام نہاد امن بورڈ کا حصہ بنا رکھا ہے تو دوسری طرف غزہ اور لبنان میں مسلسل جارحیت اور دہشتگردی کی جا رہی ہے اور پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر امن کس طرح قائم ہوگا۔؟

جب بات فلسطین کی ہوتی ہے تو مسئلہ صرف ایک غزہ کی پٹی کا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پورے فلسطین میں ہونے والے صیہونی مظالم اور سازشیں بھی ہیں، جس کا فلسطینیوں کو سامنا ہے۔ صرف غزہ ہی نہیں، بلکہ West Bank میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چھاپے، گرفتاریوں اور بستیوں کی توسیع نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مقامی آبادی عدم تحفظ اور سیاسی بے یقینی کا شکار ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ صرف ایک وقتی جنگ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سیاسی تنازع ہے، جس کا کوئی منصفانہ حل تلاش کیے بغیر امن ممکن نہیں ہوسکتا اور اس امن اور منصفانہ حل کی تلاش میں رکاوٹ بھی امریکی اور اسرائیلی حکومتیں ہیں کہ جو خطے میں امن قائم نہیں ہونے دیتیں۔

جہاں ایک طرف عالمی برادری، ادارے اور حکومتیں غزہ اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے خاموش ہیں، وہاں ساتھ ساتھ مسلم دنیا کا کردار بھی مشکوک ہوچکا ہے۔ دنیا کے مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم طاقتیں، اکثر بیانات کی حد تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ مسلم دنیا کی حکومتیں اسرائیلی جارحیت پر مذمت تک نہیں کر رہی ہیں۔

مسلم دنیا کے اس کمزور رویہ نے امریکہ اور اسرائیل کو مزید تقویت دی ہے کہ وہ کھلم کھلا جب چاہے، جیسے چاہے اور جہاں چاہے، حملہ کرے اور معصوم انسانوں کو قتل کرے۔

اقتصادی مفادات، سفارتی توازن اور جیوپولیٹیکل ترجیحات نے اصولی موقف کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہ خاموشی نہ صرف فلسطینی عوام کے لیے مایوس کن ہے، بلکہ عالمی ضمیر پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اگر عالمی نظام انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں پر قائم ہے تو پھر ان اصولوں کا اطلاق یکساں کیوں نہیں۔؟ یہ ایسے سوالات ہیں، جو عالمی اداروں کو منہ چڑا رہے ہیں۔

سوال ان تمام مسلمان ممالک کے حکمرانوں اور حکومتوں پر بھی اٹھ رہا ہے کہ جنہوں نے ٹرمپ کی قیادت کو تسلیم کیا اور اپنے ذاتی مفادات کی حفاظت کے لئے فلسطین کو فراموش کر دیا ہے۔

یہی وہ مسلمان ممالک اور ان کی حکومتیں ہیں، جو نام نہاد امن بورڈ کا حصہ ہیں، لیکن غزہ و لبنان میں امن کو تباہ کرنے کی امریکی اور اسرائیلی جارحیت پر خاموش ہیں۔

دنیا کی ان تمام بے حس حکومتوں اور اداروں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ حقیقی امن صرف جنگ بندی کے کاغذی معاہدوں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے بنیادی سیاسی مسائل کا حل، انسانی حقوق کا احترام اور بین الاقوامی قوانین کی غیر جانبدارانہ پاسداری ضروری ہے۔

فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، محفوظ زندگی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیئے بغیر کسی بھی امن عمل کی ساکھ برقرار نہیں رہ سکتی۔

خلاصہ یہ ہے کہ غزہ و لبنان کی موجودہ صورت حال محض ایک علاقائی تنازع نہیں ہے۔ یہ عالمی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔

عالمی نظام اگر خود کو باقی رکھنا چاہتا ہے تو پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ ظالم قوتوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ایسا نہیں ہوسکتا کہ غزہ اور لبنان میں قتل عام جاری رہے اور ساتھ ساتھ امن کانفرنسوں میں امن کے راگ الاپے جائیں۔ اگر عالمی برادری واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے الفاظ سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

بصورت دیگر، جنگ بندی کے معاہدے محض رسمی دستاویزات رہ جائیں گے اور غزہ و لبنان سمیت دنیا بھر میں خون بہتا رہے گا۔

Scroll to Top