وزیراعظم، آرمی چیف سے پوچھتا ہوں فقط اہلبیتؑ سے منسوب چیزوں پر ہی حملے کیوں ہوتے ہیں؟ علامہ حافظ ریاض نجفی

 اسلام 24/7 کے مطابق وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ خدیجة الکبریٰ میں قیامت صغریٰ برپا کی گئی، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 36 نمازی شہید ہو چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہیں۔

یہ مسجد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس اہلیہ کے نام پر قائم کی گئی، جس نے اپنا سارا مال اسلام پر لٹا دیا اور یہاں نمازیوں کو حالت سجدہ میں شہید کر دیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت جیسے حساس علاقے میں دہشتگردی کا اتنا بڑا واقعہ ہو جانا اور ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے استفسار کروں گا کہ یہ کیا وجہ ہے کہ فقط اہل بیت علیہم السلام کے نام سے منسوب چیزوں پر ہی حملے کیوں ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کرکے علی، حسن، حسین، عباس نام ہونے پر کیوں شہید کر دیا جاتا ہے، اگر محرم ہوتا ہے تو بھی ہمیں ہر طرف سے فوج نے گھیرا ہوتا ہے اور سکیورٹی کے نام پر اربعین پر جانے سے ہمیں روکا جاتا ہے، کیا یہ اسلامی ملک ہے، جس میں اہلبیت اطہار ؑسے محبت کو جرم بنا دیا گیا ہے؟

جامع علی مسجد، حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، ایسا کیوں ہے کہ اہلبیت اطہارؑ کے نام لیواوں کو شہید کیا جاتا ہے، پاکستان لا الہ الا اللہ کے نام پر بنا اور ایسا کیوں ہے کہ لا الہ الا اللہ پر جان دینے والے اور اس کا تحفظ کرنے والوں کے لیے زمین تنگ کی جا رہی ہے۔

میں حکمرانوں سے پوچھتا ہوں کیا انہوں نے قبر میں نہیں جانا، وہاں کیا جواب دیں گے؟ اگر اسلام حقیقی پر عمل کرنا ہے تو اس کے لیے اہل بیت اطہار ؑکی محبت لازم ہے۔

Scroll to Top