مقامی پولیس کے مطابق نوجوان زعفران وزیر کو شمالی وزیرستان کے علاقے شیواہ سے اغوا کرکے ٹارچر کیا گیا، جبکہ دوران اغوا ان کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی جس میں انہوں نے ویڈیو شیئر کرنے کو اپنی غلطی قرار دیا اور کہا کہ وہ نامعلوم افراد کے پاس ہے۔
اغواکاروں نے اس ویڈیو کو اسلام اور پشتون روایات کے منافی قرار دے کر ان کو اغوا کیا۔
اب مغوی نوجوان بازیاب ہو کر بحفاظت اپنے گھر پہنچ گیا۔ مقامی لوگوں نے زعفران وزیر کا ہار پہنا کر استقبال کیا جبکہ اس موقع کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
ڈی پی او سجاد حسین کے مطابق نوجوان محفوظ طریقے سے اپنے اہل خانہ کے پاس پہنچ چکا ہے۔
واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے استعمال، مقامی حساسیت اور نوجوانوں کی ذمہ داری سے متعلق بحث کو جنم دے دیا ہے کہ کیا آٹھ سالہ یتیم بچی کرکٹ نہیں کھیل سکتی اور اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا اسلام اور پشتون روایات سے متصادم ہے یا نہیں؟ ویڈیو وائرل کرنے والے نوجوانوں کو اغوا کرنا، ان کی ویڈیو بنانا ریاستی رٹ پر سوالیہ نشان نہیں؟