تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی
امیر جماعت اہل حرم پاکستان
مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان
محترم قارئین، ایک بار پھر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی فضا خون میں نہا گئی ہے۔ ملت تشیع کی جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ایک دہشت گرد نے خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد شہید اور 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت نہایت تشویش ناک ہے۔ ایسے المناک واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ امت مسلمہ کے دلوں میں خوف، صدمہ اور تشویش بھی پیدا کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص مسجد میں جاتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرتا ہے اور اس کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان اپنے رب کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے تو اس کے دل کو سکون ملتا ہے اور اسے روحانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔
لیکن ایسے درندے، جو نہ اپنی جان کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ معصوم مسلمانوں کی جان و مال کا خیال کرتے ہیں، وہ بارود کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نام لینے والوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اپنی جانوں کو ضائع کرکے جہنم واصل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ انسانیت اور مذہب دونوں کے دشمن ہیں۔
اس حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور اس پر جتنا بھی افسوس کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ ہمیں ایسے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شہداء کو اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ نیز اللہ تعالیٰ ان دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں، فنانس کرنے والوں اور سہولت کاروں کو جہنم واصل کرے، تاکہ ملک میں اس قسم کے جرائم کی دوبارہ کسی کو ہمت نہ ہو۔ یہ حملے صرف ملک کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ ان کی وجہ سے امت مسلمہ کے اتحاد کو بھی شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
اسلام آباد جیسے شہر میں ہونے والے اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان شیعہ اور سنی اختلافات کو ہوا دے کر ملک میں انتشار پیدا کیا جائے۔ اس لیے امت مسلمہ کو چاہیئے کہ وہ اتحاد قائم رکھے اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔
یہ دہشت گردانہ حملے نہ صرف انسانی جانوں پر ظلم کا سبب ہیں بلکہ ملک کے امن، سکیورٹی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی شدید خطرہ کا باعث ہیں۔ ہمارے سکیورٹی کے ادارے جن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کا تحفظ کریں، انہیں ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو پکڑنا اور ان کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسے حملے صرف دشمن کی جانب سے ملک کی بدنامی کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ لوگ پاکستان، اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ ایسے حالات میں ہمیں اپنے ایمان اور صبر کو مضبوط رکھنا ہوگا اور دشمن کے مقابلے میں متحد رہنا ہوگا۔ ہمیں مل کر ان خوارج اور دہشت گردوں کی منصوبہ بندی کو بے نقاب کرنا ہوگا، تاکہ پاکستان میں امن وامان قائم رہے۔
یہ حملہ صرف ایک مکتبہ فکر کے خلاف نہیں ہے، بلکہ پورے ملک اور پاکستانی مسلمانوں کے خلاف ہے۔ کسی بھی مکتبہ فکر کے لوگ جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لیے جب وہ مسجد میں آتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں تو ان پر حملہ کرنا انسانی اور اسلامی اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ دنیا میں مسلمانوں کے امیج کو خراب کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر نوعیت قابلِ مذمت ہے اور دہشت گردوں کا اسلام سے یقیناً کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا اصل مقصد ملک میں فساد پھیلانا، فرقہ واریت کو ہوا دینا، قومی عدم استحکام پیدا کرنا اور پاکستان کی ایٹمی و نظریاتی حیثیت کو کمزور کرنا ہے۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ ایجنڈا ہے کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے، امت مسلمہ کے اتحاد کو آگے نہ بڑھنے دیا جائے اور معاشرے میں نفرت و عداوت پھیلائی جائے۔
راقم نے شیعہ سنی اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ کوشش کی ہے اور اس سانحہ میں بھی متعدد دفعہ ملت تشیع کے قائدین سے مل کر اظہار تعزیت کیا ہے اور ہسپتالوں میں جا کر مریضوں کی تیمارداری بھی کی اور ان کی دلجوئی بھی کی۔ میرا خیال ہے کہ ایسے موقع پر ہم سب کو کھلا دل کرکے اس دوسرے کے دکھ میں شریک ہونا چاہیئے۔ سانحہ ترلائی کے بعد عوام کا حوصلہ افزا ردِعمل، شہداء کی تدفین اور زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ دلخراش سانحہ ترلائی کے وقت وفاقی دارالحکومت میں مختلف بین الاقوامی دورے جاری تھے اور سخت سکیورٹی انتظامات موجود تھے، اس کے باوجود یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ اس حوالے سے پوری قوم ابھی تک واضح جواب کی منتظر ہے۔ دارالحکومت میں ہونے کے باوجود ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ وسائل دستیاب نہیں تھے اور انتظامیہ کا رویہ بھی انتہائی قابل افسوسناک رہا۔
دہشت گردی کے خلاف دارالخلافہ کو ہر لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیئے، تاکہ وہ ایمرجنسی کی کسی بھی صورت حال سے نبرد آزما ہوسکے۔ دشمن ہر وقت سازشیں بن رہا ہے اور ہمیں دشمن کی ان سازشوں سے خبردار رہنا چاہیئے۔ ہر حال میں اتحاد قائم رکھنا ہوگا۔ اگر ہم اپنے اندر اتفاق و اتحاد قائم رکھیں گے تو دشمن کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے والے لوگ، جو اپنے رب کے قرب میں رہتے ہیں، وہ ہر مصیبت اور حادثے سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اللہ کے ذکر میں مصروف رہیں، دل کو پاکیزہ رکھیں اور مساجد کے ساتھ تعلق قائم رکھیں۔ ہم سب کو متحد رہنا ہوگا، اختلافات کو بڑھاوا دینے والے عناصر سے بچنا ہوگا اور دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے حالات میں صبر، حوصلہ اور حکمت عطا فرمائے، تاکہ ہم اپنے ملک، اپنے دین اور انسانیت کی فلاح کے فریضے کو کامیابی سے ادا کرسکیں۔