رہبر معظم آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی زندگی پر ایک نظر

خصوصی رپورٹ

آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای مدّ ظلّہ العالی انقلاب اسلامی کے شہید رہبر اور دنیائے تشیع کے عظیم مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای قدس سرہ کے دوسرے فرزند ہیں۔ آپ 1970ء میں ایران کے مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔

ایک علمی اور دینی گھرانے میں پرورش پانے کی وجہ سے بچپن ہی سے آپ کی توجہ علومِ دینیہ کی طرف مبذول رہی۔ آپ نے دینی تعلیم کے ابتدائی مراحل تہران کے معروف دینی ادارے مدرسہ آیت اللہ مجتہدی تہران میں طے کیے اور وہیں سے اپنے علمی سفر کا باقاعدہ آغاز کیا۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد جب ایران پر مسلط کردہ جنگ شروع ہوئی تو آپ نے صرف علمی میدان تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی طور پر میدانِ جہاد میں بھی شریک ہوئے۔

اس زمانے میں آپ لشکر حضرت محمد رسول اللہؐ کے معروف یونٹ “حبیب” کے مجاہدین کے ساتھ محاذِ جنگ پر موجود رہے اور دفاعِ وطن اور انقلاب اسلامی کے مقدس فریضے میں اپنا کردار ادا کیا۔

جنگ کے خاتمے کے بعد 1989ء میں آپ نے دینی تعلیم کے اعلیٰ مراحل کے لیے قم کا رخ کیا اور کچھ عرصہ وہاں قیام کے بعد دوبارہ تہران میں بھی اپنی تعلیم کو جاری رکھا

۔ 1997ء میں آپ کی شادی شہیدہ بانو زہرا بنت حداد عادل سے ہوئی۔ اسی سال آپ دوبارہ قم منتقل ہوئے اور مستقل طور پر حوزۂ علمیہ قم سے وابستہ ہو گئے۔

آپ نے سطوحِ عالیہ کے دروس ممتاز اساتذہ سے حاصل کیے جن میں آیت اللہ احمدی میانہ جی، آیت اللہ رضا استادی، آیت اللہ اوسطی اور دیگر جید اساتذہ شامل ہیں۔

فقہ و اصول کے دروسِ خارج آپ نے اپنے والد گرامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے علاوہ آیت اللہ شیخ جواد تبریزی، آیت اللہ شیخ حسین وحید خراسانی، آیت اللہ سید موسیٰ شبیری زنجانی، آیت اللہ مجتبیٰ تہرانی اور آیت اللہ شیخ محمد مؤمن قمی جیسے بزرگ فقہاء سے حاصل کیے۔

آپ نے سترہ برس سے زائد عرصے تک باقاعدگی کے ساتھ دروسِ خارج میں شرکت کی اور علمی مباحث میں فعال کردار ادا کیا۔

غیر معمولی ذہانت، گہری بصیرت اور انتھک محنت کے باعث آپ نے فقہ، اصول اور علم رجال میں متعدد علمی نکات اور نظریات پیش کیے ہیں۔ آپ کی تحقیق کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ اسلامی علوم کے مختلف شعبوں میں اپنے مبانی کی بنیاد پر منظم اور جدید انداز میں مباحث پیش کرتے ہیں۔

حکمِ شرعی کی حقیقت، احکام کے مراتب اور ملاکات، تعدد حکم، رجوع قیود اور حدیثی معارف کے انتقال کے تاریخی مراحل جیسے موضوعات میں آپ کے تحقیقی نکات قابل توجہ سمجھے جاتے ہیں۔

فقہ و اصول کے عظیم علمی مکاتب جیسے شیخ انصاری، آخوند خراسانی، محقق نائینی، آقاضیاء عراقی، مرحوم اصفہانی، مرحوم بروجردی اور امام خمینی کے علمی مکتب پر آپ کی گہری دسترس نے آپ کے اجتہادی مبانی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ تدریس کے میدان میں بھی مسلسل سرگرم رہے۔

ابتداء میں مدرسہ آیت اللہ مجتہدی تہران میں مقدماتی دروس پڑھائے اور 1995ء سے کتاب معالم کی تدریس شروع کی۔ بعد ازاں جب شہید رہبر انقلاب نے حوزۂ علمیہ کے نصاب میں تبدیلی اور شہید آیت اللہ سید محمد باقر صدر کی کتب کو شامل کرنے پر زور دیا تو آپ نے معالم کی جگہ حلقات کی تدریس شروع کر دی۔

1997ء میں قم منتقل ہونے کے بعد کچھ عرصہ حلقات پڑھاتے رہے اور 1998ء میں بیت امام خمینی میں رسائل اور مکاسب کی خصوصی تدریس کا آغاز کیا۔

بعد ازاں آپ نے فقہ کے درس خارج میں نماز کے بعض ابواب پر دروس بھی دیے۔ 2007ء میں آپ کا درس مدرسہ فیضیہ منتقل ہوا اور 2008ء میں دفتر آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای قم میں آپ کا خصوصی درس خارج قائم ہوا۔ 2009ء میں آپ نے فقہ کا عمومی درس خارج شروع کیا اور 2010ء میں اصول کا درس خارج بھی آغاز ہوا جو بحث استصحاب تک جاری رہا۔

آپ تدریس سے پہلے اپنے نظریات کو تحریری شکل میں مرتب کرتے اور درس کے بعد مباحث کو خود قلم بند کرتے تھے۔ آپ کے بعض علمی آثار اشاعت کے لیے تیار ہیں جبکہ شاگردوں نے بھی آپ کے دروس کی تقریرات مرتب کیں، اگرچہ طویل عرصے تک آپ کی اجازت نہ ہونے کے باعث وہ شائع نہ ہو سکیں۔

آپ کے درس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ فقہ کے درس سے پہلے چند منٹ قرآن کریم کی تفسیر کے لیے مخصوص ہوتے تھے جن میں نہایت دقیق اور تازہ علمی نکات بیان کیے جاتے تھے۔

کورونا سے قبل آپ کے درس خارج میں تقریباً چار سو طلبہ شریک ہوتے تھے اور بعد ازاں آن لائن دروس کے ذریعے بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔

2023ء میں تقریباً تیرہ سو افراد نے آپ کے درس میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کرائی۔

ایک مرحلے پر تعلیمی سال کے دوران تقریباً سات سو طلبہ کی موجودگی کے باوجود آپ نے اچانک اپنے درس کی تعطیلی کا اعلان کیا اور شاگردوں سے حلالیت طلب کی۔

اس خبر نے حوزۂ علمیہ قم میں خاصی حیرت پیدا کی۔

 بعد ازاں قم کے تقریباً ایک ہزار طلبہ اور اساتذہ نے ایک خط کے ذریعے رہبر معظم انقلاب سے درخواست کی کہ اس درس کو دوبارہ شروع کروایا جائے، تاہم آپ نے نجی ملاقاتوں میں اس فیصلے کی وجہ کو ایک روحانی امر قرار دیا اور فرمایا جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو روحانی اور اخلاقی بزرگوں سے تعلق بھی ہے۔

آپ کو آیت اللہ بہاء الدینی، آیت اللہ بہجت، آیت اللہ کشمیری، شیخ جعفر مجتہدی اور دیگر اہل معنویت سے خصوصی نسبت حاصل رہی ہے۔ روحانی سلوک اور تزکیہ نفس کے حوالے سے اہل معرفت کے درمیان آپ کے بارے میں مختلف واقعات نقل کیے جاتے ہیں۔

علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آپ کو سماجی اور فکری مسائل پر بھی گہری نظر حاصل رہی ہے۔ مختلف نشستوں اور علمی حلقوں میں آپ نے اقتصادی استحکام، بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں توازن، زرعی نظام کی اصلاح، جدید تعمیراتی نظام اور مصنوعی ذہانت جیسے موضوعات پر بھی سنجیدہ مباحث پیش کیے ہیں۔

مزاحمتی محاذ کے قائدین اور فوجی کمانڈروں کے ساتھ بھی آپ کے قریبی روابط رہے ہیں۔ خصوصاً شہید سید حسن نصر اللہ اور شہید کمانڈر قاسم سلیمانی کے ساتھ تعلقات آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو سمجھے جاتے ہیں۔

ان تمام خصوصیات اور اثر و رسوخ کے باعث امریکہ اور صہیونی حکومت اس معزز شخصیت کے خلاف طویل عرصے سے دشمنی رکھتے آئے ہیں۔

مختلف ادوار میں جسمانی نقصان پہنچانے کی کوششیں بھی کی گئیں، مگر خداوند متعال کی حفاظت اور امام زمان علیہ السلام کی عنایت کے باعث دشمن اپنے مقاصد میں ناکام رہا۔

 بلا شبہ یہ شخصیت انقلاب اسلامی اور عالم اسلام کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے جو آئندہ بھی حق اور باطل کی جاری کشمکش میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔

Scroll to Top