ایران میں مقیم معروف عالم دین یوشع ظفر حیاتی نے خصوصی پیغام میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور قم المقدس پر بڑے حملوں کی اطلاعات بے بنیاد اور افواہوں پر مبنی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اہم شہروں تہران اور قم المقدس پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں، تاہم حقیقت میں ایسی کسی خبر میں کوئی صداقت موجود نہیں۔
یوشع ظفر حیاتی کے مطابق قم المقدس میں حالات مکمل طور پر معمول کے مطابق ہیں اور شہری اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق گزار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے پھیلائی جانے والی اطلاعات نے غیر ضروری تشویش کو جنم دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی جھوٹی خبروں کی وجہ سے ایران میں مقیم پاکستانیوں کے اہل خانہ میں بھی شدید پریشانی پائی جا رہی ہے، کیونکہ وہ اپنے پیاروں کے بارے میں فکر مند ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ افواہوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب ایران کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں نئے سپریم لیڈر کے ساتھ تجدیدِ عہد اور بیعت کا سلسلہ جاری ہے۔
لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل کر نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں اور ملک کی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دے رہے ہیں۔
عالم دین یوشع ظفر حیاتی نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ موجودہ حالات میں ذمہ دارانہ رویہ اپنانا انتہائی ضروری ہے اور عوام کو چاہیے کہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔