بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ۱۳ فروری ۲۰۲۶ کو ہونے والے ۱۳ویں عام انتخابات میں تاریخی اور فیصلہ کن جیت حاصل کر لی ہے۔ یہ تقریباً ۲۰ سال بعد بی این پی کی حکومت میں واپسی ہے۔ یہ انتخابات ۲۰۲۴ کی طلبہ اور عوامی بغاوت کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے مکمل مقابلہ جاتی انتخابات تھے۔
انتخابات ۱۲ فروری کو ہوئے اور ووٹوں کی گنتی کے بعد ۱۳ فروری کو نتائج سامنے آئے۔ ووٹر ٹرن آؤٹ اچھا رہا اور پولنگ پرامن طور پر مکمل ہوئی۔
بی این پی نے دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کی ہے۔ مختلف ذرائع اور میڈیا رپورٹس (جیسے روئٹرز، سی این این، جامونا ٹی وی، پرو تھوم الو) کے مطابق:بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے ۲۹۹ نشستوں میں سے ۲۰۹ سے ۲۱۲ نشستیں جیتی ہیں۔ اس سے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت (۲۰۰+ نشستیں) حاصل ہو گئی ہے جو حکومت بنانے کے ساتھ آئینی ترامیم کے لیے بھی کافی ہے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت میں مخالف اتحاد نے ۶۸ سے ۷۰ نشستیں حاصل کی ہیں۔ باقی چند نشستیں آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں (جیسے نیشنل سٹیزن پارٹی) کے پاس گئی ہیں۔
بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے ڈھاکہ-۱۷ اور بگڑہ-۶ دونوں نشستوں سے بڑے مارجن سے جیت حاصل کی۔ وہ اگلے وزیراعظم بننے کے مضبوط امیدوار ہیں۔ طارق رحمان ۱۷ سال لندن میں جلاوطنی کے بعد واپس آئے تھے۔
بی این پی نے جیت کا جشن منانے کے بجائے ملک بھر میں مساجد میں خصوصی دعائیں اور ملک کی بہتری، امن اور استحکام کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔