اسلام24/7کے مطابق امریکا میں جاری ہونے والی ایپسٹین فائلز کی تازہ ترین ریلیز نے ایک بار پھر آلِ سعود کے اصل چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان دستاویزات کے ساتھ سامنے آنے والی ایک تصویر نے خطے میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، جس میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو بدنام زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تصویر 2017 میں ریاض میں لی گئی، اس وقت جب ایپسٹین پہلے ہی نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور چائلڈ پروسٹی ٹیوشن کے مقدمات میں مجرم قرار دیا جا چکا تھا۔ اس کے باوجود آلِ سعود کی قیادت نے نہ صرف اس مجرم سے فاصلہ اختیار نہیں کیا بلکہ اسے شاہی دربار تک رسائی دی۔
تصویر کے منظرِ عام پر آتے ہی لبنان سمیت پورے خطے میں سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
صارفین اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تصویر آلِ سعود کے اخلاقی زوال، منافقت اور امریکی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ساتھ گہرے تعلقات کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جو حکومت خود کو اسلامی اقدار، اصلاحات اور شفافیت کا علمبردار ظاہر کرتی ہے، وہ کس بنیاد پر بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ایک شخص کو شاہی سطح پر قبول کرتی رہی۔
لبنانی سیاسی حلقوں میں اس انکشاف کو خطے میں امریکی و صیہونی اثر و رسوخ کے تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں آلِ سعود کو واشنگٹن کے مفادات کے محافظ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایپسٹین جیسے کردار صرف انفرادی مجرم نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ ہوتے ہیں جو سیاست، سرمایہ اور انحطاط زدہ طاقت کے مراکز سے جڑا ہوتا ہے، اور آلِ سعود کی قیادت کا اس نیٹ ورک سے جڑا ہونا کوئی اتفاق نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ سعودی حکمران خاندان پر اخلاقی بدعنوانی اور مجرمانہ عناصر کے ساتھ روابط کے الزامات سامنے آئے ہوں۔ یمن میں جنگی جرائم، سیاسی مخالفین کے قتل، صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل اور مغربی طاقتوں کے ساتھ خفیہ سودے بازی پہلے ہی آلِ سعود کے دامن پر ایک سیاہ دھبہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین دستاویزات ! فرعون وقت ٹرمپ کا بھیانک انجام قریب! قتل کون کرے گا؟
ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والی یہ تصویر اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
تاحال سعودی حکام کی جانب سے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے، جو خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر آلِ سعود بے گناہ ہیں تو وہ اس تصویر اور ایپسٹین سے تعلقات کی کھلے عام وضاحت کیوں نہیں کرتے۔ خاموشی دراصل جرم کے اعتراف کے مترادف سمجھی جا رہی ہے۔
ایپسٹین فائلز کے یہ نئے انکشافات اس حقیقت کو مزید واضح کر رہے ہیں کہ آلِ سعود کی حکومت نہ صرف سیاسی طور پر عوام دشمن ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکی ہے، اور اس کی طاقت امریکی سرپرستی، جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور خوف کے سہارے قائم ہے، نہ کہ عوامی حمایت یا اخلاقی جواز پر۔