ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی اور اسرائیلی اہداف پر مسلسل تین گھنٹے تک میزائل اور ڈرونز برسائے، جن میں جدید ’خرمشاہ‘ میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ اس حملے کو ایران کا اب تک کا سب سے طاقتور حملہ قرار دیا جارہا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ’آپریشن وعدہ صادق‘ کی 37 ویں لہر کے طور پر یہ حملے تین گھنٹے جاری رہے۔ جس میں ایرانی افواج نے اسرائیل کے کئی ایم مقامات اور خطے میں امریکی اڈوں کو جدید میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان کے مطابق ایرانی حملوں میں تل ابیب کے جنوبی علاقے میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن سینٹر کو دوسری بار ہدف بنایا گیا۔
ان حملوں میں اسرائیلی شہر تل ابیب، حیفہ اور مغربی یروشلم کے اسرائیلی مقامات کے ساتھ عراق کے اربیل، بحرین اور منامہ میں امریکی اڈے بھی شامل تھے۔
بیان کے مطابق ان حملوں میں خیبر شکن، قدر اور خرمشہر میزائل استعمال کیے گئے۔ ان میزائلوں میں متعدد وارہیڈز نصب تھے جب کہ قدر میزائل کے وارہیڈ کا وزن تقریباً ایک ٹن بتایا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ ایرانی افواج دشمن کی مکمل شکست تک امریکی اور اسرائیلی مقامات پر جوابی حملے جاری رکھیں گی۔
یہ حملے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بدھ کی شب تہران شہر پر کیے گئے شدید فضائی حملوں کے بعد کیے گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق تازہ فضائی حملے تہران میں میہر آباد ائیرپورٹ سمیت دیگر اہداف پر کیے گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل نے شہری انفراسٹرکچر پر حملے کیے، جس میں رہائشی اور طبی سہولیات بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں وسطی تہران میں واقع رہائشی علاقے میں رات بھر زور دار دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔ ایران کی ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے، امدادی ٹیمیں ملبہ کھود کر لوگوں کو تلاش کر رہی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق دارالحکومت تہران میں کم از کم آٹھ اضلاع میں حملے ہوئے اور زبردست دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور دیگر شہروں پر بھی حملے ہوئے۔