آج پاکستان کے مختلف شہروں میں سید علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہادت کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی ہے۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مُلاًک کے مختلف شہروں میں سیاسی اور مزہبی جماعتوں کی جانب سے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ان میں رہبرِ اعلی کی علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاج کی کال دی گئی۔
وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مظاہرین کو ریڈ زون کی جانب جانے سے روکنے کے لیے مختلف مقامات کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
جمعے کے بعد احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد میں ریڈ زون میں داخلے کے لئے مارگلہ روڈ اور میریٹ ہوٹل کے راستے کھلے رہیں گے۔ ان راستوں کے علاوہ ریڈ زون کی طرف جانے والے تمام داخلی راستے بند رہیں گے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد کے وسط میں کلثوم پلازہ فضل حق روڈ بجانب چائنہ چوک ٹریفک کے لئے بند رہے گی اس لیے شہری متبادل کے طور پر جناح ایونیو استعمال کریں۔ پولی کلینک ہسپتال کی جانب لال کوارٹر چوک لقمان حکیم روڈ ٹریفک کے لیے ڈائیورشن ہوگی۔ شہری متبادل کے طور پر صدر روڈ استعمال کریں۔‘
اسی طرح ’جی سکس سے ایف سکس جانے والے شہری چائنہ چوک انڈر پاس یا سیونتھ ایونیو سے جناح ایونیو استعمال کریں۔ آبپارہ چوک سہروردی بجانب سرینہ ہوٹل آنے جانے والی ٹریفک کے لیے ڈائیورشن ہوگی۔ کلب روڈ سے آنے والے شہری کشمیر چوک سے سری نگر ہائی وے سے سیونتھ ایونیو، مارگلہ روڈ استعمال کریں۔‘
تاہم بھارہ کہو سے آنے والے شہری کشمیر چوک کے ذریعے سری نگر ہائی وے، سیونتھ ایونیو، مارگلہ روڈ استعمال کریں۔
معے کے روز مجلس وحدت المسلمین کے کال پر اسلام آباد میں مرکزی امام بارگاہ جی سکس ون ٹو سے ایک ریلی اسلام آباد کے ڈی چوک کی جانب نکالی جائے گی۔
تاہم کراچی میں آج شام چار بجے نمائش چورنگی سے امام بارگاہ علی رضا سے ایم اے جناح روڈ تک ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کی علی الصبح پاکستان کے مختلف شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
مظاہرین کی جانب سے پاکستان میں واقع امریکی قونصل خانوں، سفارتخانے اور دیگر مقامات کی جانب سے جانے کی کوشش کی گئی تاہم اس دوران پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے ہونے والے جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 23 مظاہرین ہلاک ہوئے۔
اس ساری صورتحال کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے مظاہرین سے پُرامن رہنے کی اپیلیں بھی کی گئیں جبکہ کئی شہروں میں دفعہ 144 (پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع کی ممانعت) کا نفاذ بھی کیا گیا۔