امریکا بھی ایران کیخلاف جنگ میں شامل، تہران کے جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا

امریکا بھی ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں شامل ہوگیا اور امریکی طیاروں نے تہران کے 3 جوہری تنصیبات پر حملے کردیے، امریکی طیاروں نے ایران کے فوردو، نطانز اور اصفہان میں بمباری کی۔

امریکی نیوز چینل ’سی این این‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنی پوسٹ میں اعلان کیا کہ امریکا نے ایران میں فردو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات پر ’انتہائی کامیاب حملہ‘ مکمل کر لیا ہے۔

اپنی پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تمام امریکی طیارے اب ایران کی فضائی حدود سے باہر نکل چکے ہیں۔

امریکی صدر نے لکھا کہ فردو نیوکلیئر سائٹ ہمارا مرکزی ہدف تھا اور اس پر مکمل بمباری کی گئی ہے اور یہ پلانٹ ختم کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام طیارے بحفاظت واپس آ رہے ہیں، ہماری عظیم امریکی فوج کو مبارک ہو، دنیا کی کوئی اور فوج یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکتی تھی، اب امن کا وقت آگیا ہے، اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔

ایک اور پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ رات 10 بجے وائٹ ہاؤس میں قوم سے خطاب کریں گے، جس میں وہ ایران میں امریکی فوج کی کامیاب کارروائی پر بات کریں گے۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا ’ایران میں ہماری بہت کامیاب فوجی کارروائی کے حوالے سے قوم سے بات کروں گا، یہ امریکا، اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، ایران کو اب اس جنگ کے خاتمے پر رضامند ہونا ہوگا۔

یہ خطاب ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملے کے چند گھنٹوں بعد ہو رہا ہے، جس میں فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنایا گیا۔ عالمی سطح پر اس اعلان کے بعد شدید ردعمل کا امکان ہے، اور تجزیہ کار اس خطاب کو ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے اور ایران کی جانب سے اس حملے پر ردعمل کا شدت سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل، رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جمعرات کو اسرائیلی اور امریکی حکام کے درمیان ایک اہم فون کال ہوئی جس میں تناؤ کی صورتحال بھی پیدا ہوگئی تھی، اس فون کال میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، وزیر دفاع اسرائیل کاتز اور فوجی سربراہ ایال زمیر شامل تھے۔

فون کال کے دوران اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ فردو میں واقع ایران کی جوہری تنصیبات (جو ایک پہاڑ کے اندر گہرائی میں قائم ہیں) کو نشانہ بنانے کے لیے ان کے پاس وقت بہت کم ہے اور امریکا واحد ملک ہے جس کے پاس ایسے ’بنکر بسٹنگ‘ بم ہیں جو اس گہری تنصیب کو تباہ کر سکتے ہیں۔

اسرائیل نے امریکی انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے دیا گیا 2 ہفتے کا وقت بہت طویل ہے اور فوری کارروائی ضروری ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ پیغام اعلیٰ سطح کی کال کے دوران دیا گیا یا نہیں۔

تاہم، اس کال کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو براہ راست مداخلت نہیں کرنی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اقدامات امریکا کو جنگ میں گھسیٹ سکتے ہیں، اس دوران فون کال پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی شریک تھے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر کہا تھا کہ اسرائیل کے پاس فردو کو تنہا تباہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

Scroll to Top