امت مسلمہ ایران کا مکمل ساتھ دے!مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ

مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور معروف عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے کھل کر ایران کے موقف کی حمایت کی ہے۔

اپنے ہفت روزہ کالم “شمع فروزاں” میں “دشمنوں کی سازش کا شکار نہ ہوں” کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں انہوں نے امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ اس نازک وقت میں متحد ہو کر ایران کے ساتھ کھڑی ہو۔ مولانا نے زور دے کر کہا کہ پوری امت اور عالم اسلام کو ایک زبان اور ایک دل ہو کر ایران کا ساتھ دینا چاہیے۔

انہوں نے اپنے کالم میں خبردار کیا کہ بعض عناصر اس حساس موقع پر بھی شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے انہوں نے نہایت غیر مناسب اور قابل مذمت قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ ظلم، بربریت اور دھوکہ دہی پر مبنی ہے، جس کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید کہا کہ اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے شیعہ سنی تقسیم کو ہوا دے رہی ہیں، اور افسوس کا اظہار کیا کہ بعض تعلیم یافتہ اور دینی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے تاریخی تناظر میں واضح کیا کہ اہل سنت اور اہل تشیع صدیوں سے اختلافات کے باوجود ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، اور بیشتر مسلم ممالک میں دونوں مکاتب فکر کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نئی صورتحال نہیں بلکہ قدیم زمانے سے فکری اختلاف کے باوجود باہمی coexistence قائم رہا ہے۔

مولانا نے اپنے عرب دوستوں اور حلقہ احباب کی پرواہ کیے بغیر اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا، جبکہ بھارت میں ایک بڑا طبقہ اس مسئلے پر خاموش یا محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے، اور کچھ مذہبی حلقے کھل کر ایران کی مخالفت اور فرقہ وارانہ اختلافات کو بڑھانے میں مصروف ہیں۔

Scroll to Top